نتائج تلاش

  1. محمداحمد

    جاوید اختر جسم دمکتا، زلف گھنیری - جاوید اختر

    سرِ فہرست تین نام لے دیجے۔ :)
  2. محمداحمد

    جاوید اختر جسم دمکتا، زلف گھنیری - جاوید اختر

    ہمارا سوال اب بھی وہیں ہے۔ :)
  3. محمداحمد

    جاوید اختر غزل ۔ میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہے ۔ جاوید اختر

    چلیے جی ! اب اور نہیں لکھتا۔ اب یوں بھی بس ہی کرنا تھا۔ :)
  4. محمداحمد

    جاوید اختر جسم دمکتا، زلف گھنیری - جاوید اختر

    آپ کو کس کی شاعری پسند ہے؟
  5. محمداحمد

    جاوید اختر غزل ۔ کن لفظوں میں اتنی کڑوی، اتنی کسیلی بات لکھوں ۔ جاوید اختر

    غزل کن لفظوں میں اتنی کڑوی، اتنی کسیلی بات لکھوں شہر کی میں تہذیب نبھاؤں، یا اپنے حالات لکھوں غم نہیں لکھوں کیا میں غم کو، جشن لکھوں کیا ماتم کو جو دیکھے ہیں میں نے جنازے کیا اُن کو بارات لکھوں کیسے لکھوں میں چاند کے قصے، کیسے لکھوں میں پھول کی بات ریت اُڑائے گرم ہوا تو کیسے میں برسات...
  6. محمداحمد

    جاوید اختر غزل ۔ سچ ہے یہ بے کار ہمیں غم ہوتا ہے ۔ جاوید اختر

    غزل سچ ہے یہ بے کار ہمیں غم ہوتا ہے جو چاہا تھا، دنیا میں کم ہوتا ہے ڈھلتا سورج، پھیلا جنگل، رستہ گم ہم سے پوچھو کیسا عالم ہوتا ہے غیروں کو کب فرصت ہے دکھ دینے کی جب ہوتا ہے کوئی ہمدم ہوتا ہے زخم تو ہم نے ان آنکھوں سے دیکھے ہیں لوگوں سے سُنتے ہیں مرہم ہوتا ہے ذہن کی شاخوں پر اشعار آ...
  7. محمداحمد

    جاوید اختر غزل ۔ میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہے ۔ جاوید اختر

    غزل میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہے جس کا جواب چاہیے وہ کیا سوال ہے گھر سے چلا تو دل کے سوا پاس کچھ نہ تھا کیا مجھ سے کھو گیا ہے مجھے کیا ملال ہے آسودگی سے دل کے سبھی داغ دُھل گئے لیکن وہ کیسے جائے جو شیشے میں بال ہے بے دست و پا ہوں آج تو الزام کس کو دوں کل میں نے ہی بُنا تھا...
  8. محمداحمد

    جاوید اختر غزل ۔ میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا ۔ جاوید اختر

    غزل میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا وہ مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہارا برس کے کُھل گئے آنسو، نِتھر گئی ہے فضا چمک رہا ہے سرِ شام درد کا تارا کسی کی آنکھ سے ٹپکا تھا، اک امانت ہے مِری ہتھیلی پہ رکھا ہوا یہ انگارا جو پَر سمیٹے تو اک شاخ بھی نہیں پائی کُھلے تھے پر تو مِرا...
  9. محمداحمد

    جاوید اختر جسم دمکتا، زلف گھنیری - جاوید اختر

    بہت ہی خوب انتخاب ہے وارث بھائی۔۔۔۔!
  10. محمداحمد

    جاوید اختر غزل ۔ یہ تسلّی ہے کہ ہیں ناشاد سب ۔ جاوید اختر

    غزل یہ تسلّی ہے کہ ہیں ناشاد سب میں اکیلا ہی نہیں، برباد سب سب کی خاطر ہیں یہاں سب اجنبی اور کہنے کو ہیں گھر آباد سب بھول کے سب رنجشیں سب ایک ہیں میں بتاؤں سب کو ہوگا یاد سب سب کو دعوائے وفا، سب کو یقیں اس اداکاری میں ہیں اُستاد سب شہر کے حاکم کا یہ فرمان ہے قید میں کہلائیں گے آزاد سب...
  11. محمداحمد

    جاوید اختر غزل ۔ غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے ۔ جاوید اختر

    غزل غم ہوتے ہیں جہاں ذہانت ہوتی ہے دنیا میں ہر شے کی قیمت ہوتی ہے اکثر وہ کہتے ہیں وہ بس ہیں میرے اکثر کیوں کہتے ہیں حیرت ہوتی ہے تب ہم دونوں وقت چُرا کر لاتے تھے اب ملتے ہیں جب بھی فرصت ہوتی ہے اپنی محبوبہ میں اپنی ماں دیکھیں بِن ماں کے بچوں کی فِطرت ہوتی ہے اک کشتی میں ایک قدم ہی...
  12. محمداحمد

    جاوید اختر غزل ۔ خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم ۔ جاوید اختر

    غزل خواب کے گاؤں میں پلے ہیں ہم پانی چَھلنی میں لے چلے ہیں ہم چھاچھ پھونکیں کہ اپنے بچپن میں دودھ سے کس طرح جلے ہیں ہم خود ہیں اپنے سفر کی دشواری اپنے پیروں کے آبلے ہیں ہم تُو تَو مت کہہ ہمیں بُرا دنیا تُو نے ڈھالا ہے اور ڈھلے ہیں ہم کیوں ہیں، کب تک ہیں، کس کی خاطر ہیں بڑے سنجیدہ مسئلے...
  13. محمداحمد

    جی بہتر :)

    جی بہتر :)
  14. محمداحمد

    جاوید اختر اندھے خوابوں کو اصولوں کا ترازو دیدے - جاوید اختر

    میں سمندر بھی کسی غیر کے ہاتھوں سے نہ لوں ایک قطرہ بھی سمندر ہے ، اگر تُو دیدے بہت خوب۔۔۔!
  15. محمداحمد

    جاوید اختر خواب - جاوید اختر

    بہت خوب۔۔!
  16. محمداحمد

    جاوید اختر مجھ کو یقیں ہے سچ کہتی تھیں، جو بھی امی کہتی تھیں - جاوید اختر

    ایک یہ دن جب ساری سڑکیں روٹھی روٹھی لگتی ہیں ایک وہ دن جب آؤ کھیلیں ساری گلیاں کہتی تھیں یہ غزل اور محفلین کی گفتگو آج پھر لطف دے گئی۔ :)
  17. محمداحمد

    جاوید اختر دل میں‌مہک رہے ہیں‌ کسی آرزو کے پھول - جاوید اختر

    دیوانے کل جو لوگ تھے پھولوں کے عشق میں اب اُن کے دامنوں میں‌بھرے ہیں رفو کے پھول واہ کیا خوبصورت غزل ہے۔
  18. محمداحمد

    جاوید اختر درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں از جاوید اختر

    اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھی سر جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاتے ہیں واہ بہت خوب غزل ہے۔
  19. محمداحمد

    اپنی وجہِ بربادی، سنیے تو مزے کی ہے ۔۔۔ زندگی سے یوں کھیلے جیسے دوسرے کی ہے ۔ جاوید اختر

    اپنی وجہِ بربادی، سنیے تو مزے کی ہے ۔۔۔ زندگی سے یوں کھیلے جیسے دوسرے کی ہے ۔ جاوید اختر
Top