غزل
(صدق جائسی - 1936)
پاؤ گے اُسی کی نگہہِ ہوش رُبا میں
تاثیر ہے اے صِدق دوا میں نہ دعا میں
ممتاز وہ کشتے ہیں شہیدانِ وفا میں
سر جن کے کٹے سجدہء نقش کفِ پا میں
جذبِ دلِ بلبل کا اثر تم نے بھی دیکھا
دامن کوئی بے چاک نہیں گل کی قبا میں
سرمے نے بڑھا دی نگہہِ ناز کی تاب اور
یہ آب نہ...
حُسنِ نظر
(قیوم نظر- 1932)
مُحبت میں تیری ہے جینا ہی پینا
نہ کچھ فکرِ ساغر نہ کچھ ذکرِ مینا
خزاں ہوگئی ہے بہارِ تمنا
عجب گُل کھلائے بہار آفرینا
نگاہیں زمانے کی اِس پر جمی ہیں
کِسے دیکھ بیٹھی میری چشمِ بینا
کسی سے ہیں وابستہ میری اُمیدیں
یہی میرا مرنا یہی میرا جینا
نگاہِ کرم تو نے یہ...