(گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔)
چلیں پھِر بات کرتے ہیں بچپن کی۔وہ پہاڑوں کے دِن بھی کیا دِن تھے۔اُن دِنوں میرا ایک ہم جماعت تھا جوپہاڑوں کا طوطا تھا اور پہاڑے کی چوٹی پر تھا ۔ پہاڑے اُس کے لئے ایسے تھے جیسے ' رُوئی کے پہاڑے '۔میں اکثر اپنی کمزوری چھُپانے کے لئے اُس کے بغل میں کھڑا ہو جایا کرتا تھا۔اور...
گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔
(گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔)
اب تو پہاڑوں میں ۔۔۔گِنتی کے ہی ڈاکُو رہ گئے ہیں۔گئے وہ دِن جب' جنابِ گبّر'پہاڑوں میں خلیل خان والی فاختائیں اُڑایا کرتے تھے۔ اب تویہ سب۔۔
قصئہ پہاڑینہ ہو چُکے۔لیکن پہاڑ جیسا دِکھنے والا اَمریکا کہتا ہے کہ اِن پہاڑوں میں دہشتگرد چھُپے ہُوے ہیں مگر...
گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔
(گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔)
بچپن میں مجھے پہاڑوں سے بہت ڈر لگتا تھا۔ وہ اِس لےئ کہ اِن میں ڈاکُو چھُپے رہتے ہیں۔پہاڑوں سے پچاس پچاس کوس دُور جب شام گڑھ ْمیں کوئی بچہ روتا ہے توسوتیلی ماں کہتی ہے " بیٹا سو جا ! نہیں تو پہاڑوں سے گبّر آ جائے گا۔ وہ دو مارے گا ، ایک گِنے...
طنز و مزاح۔۔۔۔۔چند محاوروں کو اپنے طریقے سے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔
اونٹ پہاڑ ے کے نیچے
(نادِر خان سَرگِروہ ۔۔۔مقیم مکہ مکرمہ)
دو اےکم دو ، دو دُونی چار ، دو تِیا چھ ، دو چوک۔۔۔۔کبھی کبھی میں یہ سوچتا ہوں۔(یوں بھی میں کبھی کبھی ہی سوچتا ہوں) کہ ہمیں یہ پہاڑے کیوںکر رٹائے جاتے...
غزل
(معظم سعید - کراچی پاکستان)
تیز ہوا میں دیپ جلانا مشکل ہے
دل کو لیکن یہ سمجھانا مشکل ہے
شب بھر گلیاں شور مچاتی رہتی ہیں
اب آنکھوں میں خواب سجانا مشکل ہے
زرد شجر کے ہر پتّے پر لکھا ہے
اس موسم میں جشن منانا مشکل ہے
بند گلی کا رستہ ہے اور تنہا میں
اب یہ بستی چھوڑ کے جانا مشکل...
ہائیکو - آفتاب مضطر
اردو ادب کی مختلف اصنافِ سخن میں سب سے نیا اضافہ جاپان کی سہ مصرعی نظم "ہائیکو" ہے۔ ابتدا میں ہائیکو نگاری مقبولیت کے لحاظ سے ناکام ہوتی نظر آئی لیکن جناب محترم محشر بدایونی، راغب مراد آبادی اور محسن بھوپالی جیسے معتبر ترین شعرا نے اس صنعفِ سخن کو اپنایا تو بہت سے دوسرے...
غزل
(راشد آزر)
جنہیں شعورِ فنِ منزل آشنائی رہا
اُنہی کے دل میں گمانِ شکستہ پائی رہا
سُراغ پا نہ سکے آپ اپنی منزل کا
وہ کم سواد، جنہیں شوقِ رہ نمائی رہا
ہمارے دامنِ عصیاں میں مُنہ چھپاتے رہے
وہ لوگ، جن کو بڑا زعمِ پارسائی رہا
فراق و وصل کی منزل سے ہم گزر تو گئے
رسائی میں بھی،...
غزل
(ذرّہ حیدرآبادی - حیدرآباد دکن)
زخم اِتنے ہیں کیا دیکھائیں ہم
دل یہ کرتا ہے بھول جائیں ہم
پیار اُن سے ہمیشہ رہتا ہے
جِن سے دھوکا ہمیشہ کھائیں ہم
آگئی ہے بہار گلشن میں
تم بھی آؤ تو مُسکرائیں ہم
آج ہم سے مِلو اکیلے میں
دل کی حالت تمہیں بتائیں ہم
آؤ اُس کو بھی بے وفا بولیں...