’’ غزل ‘‘
یہ شرک ہے تصّورِ حسن وجمال میں
ہم کیوں ہیں تم اگر ہو ہمارے خیال میں
جب سے مرا خیال تری جلوہ گاہ ہے
آتا نہیں ہوں آپ بھی اپنے خیال میں
اٹھّا ترا حجاب نہ میرے اٹھے بغیر
میں آپ کھوگیا ترے ذوقِ وصال میں
بیداریِ حیات تھی ایک خوابِ بیخودی
نیند آگئی مجھے تری بزمِ جمال میں
اب ہر...
سید انور جاوید ہاشمی کی ایک غزل جو انہوں نے ایک حادثے میں مفلوج ہونے بعد کہی ۔۔۔ (اب الحمد للہ روبہ صحت ہیں بغیر بیساکھیوں کے بھی چل لیتے ہیں ) واضح رہے کہ ہاشمی صاحب اس بزم کے رکن بھی ہیں ۔۔ مگر حاضری ۔۔ نہ ہونے کے برابر ہے۔۔ یہ غزل اسی کیفیت کی آئنہ دار ہے ۔۔۔ باقی آپ ملاحظہ کیجئے۔
دکھ جو...