مغزل

محفلین
سید انور جاوید ہاشمی کی ایک غزل جو انہوں نے ایک حادثے میں مفلوج ہونے بعد کہی ۔۔۔ (اب الحمد للہ روبہ صحت ہیں بغیر بیساکھیوں کے بھی چل لیتے ہیں ) واضح رہے کہ ہاشمی صاحب اس بزم کے رکن بھی ہیں ۔۔ مگر حاضری ۔۔ نہ ہونے کے برابر ہے۔۔ یہ غزل اسی کیفیت کی آئنہ دار ہے ۔۔۔ باقی آپ ملاحظہ کیجئے۔

sajhashmiej9.gif

دکھ جو میں نے سمیٹا وہ سمٹا کہاں
کیا س۔میٹے کوئی پھی۔ل۔تا آس۔۔م۔اں
حادثہ بے سب۔۔ب تھ۔ا کہ یہ ناگ۔ہاں
آگئیں ہاتھ میں میرے بی۔ساکھیاں
ایک پل میں یہ کایا پ۔لٹ ہوگئی
کتنی مشکل سے بنتی رہی ساکھ یاں
کیسا دنیا کمانے میں مشغول تھا
دیکھتی ہی رہی مجھ کو کروبیاں
زندگی اپنے ڈھب سے گزرتی رہی
زندگی ایک ہی ڈھب پہ رہتی کہاں
خواب دیکھا تو جیسے گنوائیں سبھی
چاہتیں، خواہشیں، رنج ، مجبوریاں
کتنے آنسو کہ نکلے نہیں قلب سے
آبسیں آنکھ میں کتنی تنہائیاں
وقت کٹتا نہیں قیدِ تنہائی میں
ہوگئیں جیسے یکساں بہار و خزاں
ماحصل عشق کا میں نے جانا اسے
دل کو بخشی گئیں جتنی رسوائیاں
رزق کے باب میں یہ سہارا بنے
کام آتے رہے میرے حرف و بیاں
اک شکایت کا دفتر کھلا رہ گیا
اک ندامت نے کھلنے نہیں دی زباں

سید انور جاوید ہاشمی
اردو لغت بورڈ کراچی​
 

مغزل

محفلین
شکریہ وارث صاحب ۔۔
ہاشمی صاحب کی جناب سے شکریہ اور ممنونیت کا اظہار قبول کیجئے ۔۔۔۔۔
 

محمداحمد

لائبریرین
اک شکایت کا دفتر کھلا رہ گیا
اک ندامت نے کھلنے نہیں دی زباں


واہ واہ مغل بھیا !

کیا عمدہ غزل پیش کی ہے۔ بہت خوب اور بے حد بھرپور!
 

سیدہ شگفتہ

لائبریرین
بہت پر تاثر کلام اور بہت عمدہ انتخاب !

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ سید انور جاوید ہاشمی صاحب کو جلد از جلد مکمل صحت و تندرستی عطا فرمائے ۔ آمین
 

محمد وارث

لائبریرین
اور یہ دوسری بار شکریہ مغل صاحب آپ کا، سیّد صاحب کی تصویر لگانے کیلیئے، قبلہ ہمارا تو حجِ اکبر ہو جاتا ہے ایسے بزرگوں کی زیارت سے!
 

نوید صادق

محفلین
اک شکایت کا دفتر کھلا رہ گیا

کیا بات ہے۔ مغل بھائی!! ہاشمی صاحب نے اس حادثے کے نتیجے میں ہونے والی واردات کا کیا بخوبی بیان فرمایا ہے۔ اللہ ان کو جلد از جلد شفائے کاملہ عطا فرمائے۔ ہو سکے تو ہاشمی صاحب کا مزید کلام بھی اپلوڈ کریں۔ میں نے آپ لوگوں کی غزلیں باقی احمد پوری کو پہنچا دی ہیں۔ اس میں ہاشمی صاحب کا کلام بھی تھا۔
 
سید انور جاوید ہاشمی کی ایک غزل جو انہوں نے ایک حادثے میں مفلوج ہونے بعد کہی ۔۔۔ (اب الحمد للہ روبہ صحت ہیں بغیر بیساکھیوں کے بھی چل لیتے ہیں ) واضح رہے کہ ہاشمی صاحب اس بزم کے رکن بھی ہیں ۔۔ مگر حاضری ۔۔ نہ ہونے کے برابر ہے۔۔ یہ غزل اسی کیفیت کی آئنہ دار ہے ۔۔۔ باقی آپ ملاحظہ کیجئے۔


دکھ جو میں نے سمیٹا وہ سمٹا کہاں
کیا س۔میٹے کوئی پھی۔ل۔تا آس۔۔م۔اں
حادثہ بے سب۔۔ب تھ۔ا کہ یہ ناگ۔ہاں
آگئیں ہاتھ میں میرے بی۔ساکھیاں
ایک پل میں یہ کایا پ۔لٹ ہوگئی
کتنی مشکل سے بنتی رہی ساکھ یاں
کیسا دنیا کمانے میں مشغول تھا
دیکھتی ہی رہی مجھ کو کروبیاں
زندگی اپنے ڈھب سے گزرتی رہی
زندگی ایک ہی ڈھب پہ رہتی کہاں
خواب دیکھا تو جیسے گنوائیں سبھی
چاہتیں، خواہشیں، رنج ، مجبوریاں
کتنے آنسو کہ نکلے نہیں قلب سے
آبسیں آنکھ میں کتنی تنہائیاں
وقت کٹتا نہیں قیدِ تنہائی میں
ہوگئیں جیسے یکساں بہار و خزاں
ماحصل عشق کا میں نے جانا اسے
دل کو بخشی گئیں جتنی رسوائیاں
رزق کے باب میں یہ سہارا بنے
کام آتے رہے میرے حرف و بیاں
اک شکایت کا دفتر کھلا رہ گیا
اک ندامت نے کھلنے نہیں دی زباں

سید انور جاوید ہاشمی
اردو لغت بورڈ کراچی​

تمام حاضرین و ناظرین جنہوں نے میم میم مغل کی وساطت سے اردو ویب پر ہماری غزل پڑھی اسے قابل اعتنا گردانا ان کا شکریہ اور مزید کلام کی فرمائش پر عرض ہے کہ یہاں کلام تو ہے مگر ہم کلام کس سے ہوا جائے ۔خیر ہم بھی منھ میں زبان رکھتے ہیں ہاتھ میں قلم دان اور شعر کا امکان بھی برسر مکان و میدان رکھتے ہیں طبع آزمائی سے کون کسے روک سکتا ہے یا روک سکا ہے ایک بار پھر آپ سب کا شکریہ بصمیم قلب سید انورجاویدہاشمی
 

مغزل

محفلین
بہت شکریہ ہاشمی صاحب ،
مجھے اپنے دوست غزالی کا شعر یاد آگیا ہے ۔

یک بیک مایوسیاں حیرت بداماں ہوگئیں
آپ کی آمد سے اب راتیں درخشاں ہوگئیں
(نوید غزالی)

اسی طرح کرم روا رکھیئے گا۔
والسلام
 
Top