غزل
نہ ہو طغیانِ مشتاقی تو ” میں “ رہتا نہیں باقی
کہ میری زندگی کیا ہے، یہی طغیانِ مشتاقی
مجھے فطرت ، نوا پر، پے بہ پے مجبور کرتی ہے
ابھی محفل میں ہے شاید کوئی دردآشنا ، باقی
وہ آتش آج بھی تیرا نشیمن پھونک سکتی ہے
طلب صادق نہ ہو تیری ، تو پھر کیا شکوہِ ساقی
نہ کر ، افرنگ کا اندازہ اس کی...
یہ گاڑی آج بھی مزارِ قائد کے احاطے میں عجائب خانہ میں محفوظ ہے ،
آپ کو وہاں اس کی اندراج کی صحت معلوم ہوسکتی ہے ۔۔ میرا گزر ہوا
تو میں وہ معلومات پیش کردوں گا ۔۔ (ویسے مشکل ہے کہ وہاں جاتے ہوئے
شرم آتی ہے ۔۔ بھلا کس منھ سے قائد کے پاس جاؤں )
خیر ۔۔
بہت شکریہ۔
میں شخصیت پرستی کا قائل ہوں مگر پھر بھی کوئی نہیں۔۔
ہاں ۔۔۔۔ منور علی خان، الف عین، جیہ سے عقیدت رکھتا ہوں۔
(منور علی خان( میرے ایک ہندوستانی دوست) بڑی نابغہ روزگار ہستی ہیں )
کیا آپ نے مراسلہ 11 نہیں پڑھا
محسن نقوی۔
احمد ’’ ہر زرہ آفتاب ہے ‘‘ والا شعر مصحفی کا ہے ۔۔ کلیات میں شامل ہے۔
فگار پاؤں مرے اشک نارسا میرے
کہیں تو مل مجھے اے گمشدہ خدا میرے
شاعر کانام ؟؟