فیض صاحب کی ایک پنجابی نظم ’’ ربیا سچیا ‘‘
شاید ہم ۔۔۔۔۔۔ اپنے فرائض جان جائیں ۔
شاید ہم ۔۔۔ صم بکم والوں میں ہونے سے بچ جائیں
شاید ہم ۔۔ ان سے بچ جائیں جن کے دلوں پر مہر لگی ہے۔۔
ربّا سچّیا
ربّا سچّیا توں تے آکھیا سی
جا اوئے بندیا جگ دا شاہ ہیں توں
ساڈیاں نعمتاں تیریاں دولتاں نیں،...
ایک اور نظم ۔۔۔ ’’ کتے ‘‘
شاید ہم کچھ سبق حاصل کریں ۔۔
شاید ہم دموں پر پاؤں رکھنے سے پہلے جاگ جائیں۔
شاید ہم کراں کراں سے نجات حاصل کریں۔
کتے !
یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے
کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی
زمانے کی پھٹکار سرمایہ اُن کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی
نہ آرام شب...
مقابلہ تو زمانے کا خوب کرتا ہوں
اگرچہ میں نہ سپاہی ہوں نہ امیرِ جنود
غمیں نہ ہو کہ بہت دور ہیں ابھی باقی
نئے ستاروں سے خالی نہیں ہے سپرِ کبود
علامہ محمد اقبال ( ضربِ کلیم ) غالباً
ٹیکساس میں تو ملکہ اشعار ’’ زویا ‘‘ ہیں ۔۔
میں انہیں آپ کی آمد کی اطلاع دے دیتا ہوں ۔۔
زویا ہندوستان سے تعلق رکھتی ہیں ۔۔
اور ٹیکساس یونیورسٹی میں شعبہ اردو سے منسلک ہیں۔
میری پسندیدہ ترین نظم :
پابجولاں چلو !
’آج بازار میں پابجولاں چلو“
چشمِ نم‘ جانِ شوریدہ کافی نہیں
تُہمتِ عشقِ پوشیدہ‘ کافی نہیں
آج بازار میں پابجولاں چلو
دست اَفشاں چلو‘
مست و رَقصاں چلو
خاکِ بَرسر چلو‘
خُوں بداماں چلو
راہ تکتا ہے‘ سب شہرِ جَاناں چلو
حاکمِ شہر بھی‘
مجمعِ عام بھی...
آج کے دن فیض احمد فیض ہم سے رخصت ہوئے
24 ویں برسی
آہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔ آج کے دن ہم سے برِصغیر کا معتبر نام فیض احمد فیض ۔۔ رخصت ہو ا ۔۔ ابتدائی تعارف پیش ہے ۔
آئیے اور اس عظیم شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کریں ۔۔ آپ فیض صاحب کا کلام ( اپنی پسند کے مطابق) اور دعائیہ کلمات اور ۔۔۔ نثری مقالے پیش کرسکتے...
یاالہی خیر گردانی بحقِ شاہِ جیلانی ۔۔۔۔۔
اس وقت ناشتہ میرے خیال میں ہندوستان اور پاکستان کے معیاری وقت میں صرف 30 منٹ کافر ق ہے ۔۔
یا بی بی بی بی بیاں ابھی جاگیاں ہیں۔۔ ہہہہ
دل عظیم آبادی
از: احتشام انور
دل جس پہ علم و عشق کے عُقدے کھلے نہ ہوں
مطلب سمجھ سکے نہ میری داستان کا
جسونت رائے ناگر گجراتی برہمن کے بیٹے نے اسلام قبول کیا اور شیخ محمد عابد کے نام سے سرفراز ہوئے،یہی شیخ محمد عابد آگے چل کر دل عظیم آبادی کہلائے۔ معروف تذکرے طبقات الشعراءکے علاوہ تذکرہ...
غزل
ڈوبتی ناؤ تم سے کیا پوچھے
ناخداؤ، تمھیں خدا پوچھے
کس کے ہاتھوں میں کھیلتے ہو تم
اب کھلونوں سے کوئی کیا پوچھے
ہم ہیں اس قافلے میں قسمت سے
رہزنوں سے جو راستہ پوچھے
ہے کہاں کنجِ گل ، چمن خورو !
کیا بتاؤں اگر صبا پوچھے
اٹھ گئی بزم سے یہ رسم بھی کیا
ایک چپ ہو تو دوسرا پوچھے
لیا قت...