آج کے دن فیض احمد فیض ہم سے رخصت ہوئے ۔۔۔۔۔ 24 ویں برسی

مغزل

محفلین
Faizahmadfaiz2.JPG

آج کے دن فیض احمد فیض ہم سے رخصت ہوئے
24 ویں برسی

آہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔ آج کے دن ہم سے برِصغیر کا معتبر نام فیض احمد فیض ۔۔ رخصت ہو ا ۔۔ ابتدائی تعارف پیش ہے ۔
آئیے اور اس عظیم شخصیت کو خراجِ تحسین پیش کریں ۔۔ آپ فیض صاحب کا کلام ( اپنی پسند کے مطابق) اور دعائیہ کلمات اور ۔۔۔ نثری مقالے پیش کرسکتے ہیں ۔۔

’’ یادِ غزال چشماں ذکرِ سمن عذاراں ------------ جب چاہا کرلیا ہے ، کنجِ قفس بہاراں ‘‘ ۔۔ (فیض)


اردو ادب کے بہت سے ناقدین کے نزدیک فیض احمد فیض (1911 تا 1984) غالب اور اقبال کے بعد اردو کے سب سے عظیم شاعر ھیں۔ آپ تقسیم ہند سے پہلے 1911 میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ انجمن ترقی پسند تحریک کے فعال رکن اور ایک ممتاز کمیونسٹ تھے ۔
پیدائشی نام ----------- فیض
تخلص --------------فیض
ولادت-------------- 13 فروری 1911ء سیالکوٹ
ابتدا ---------------سیالکوٹ، پاکستان
وفات -------------20 نومبر 1984ء لاہور
اصناف ادب ----------شاعری
ذیلی اصناف---------- غزل، نظم
ادبی تحریک---------- ترقی پسند
تعداد تصانیف-------- 10
تصنیف اول ---------نقش فریادی
معروف تصانیف---- نقش فریادی ، دست صبا ، زنداں نامہ ، دست تہ سنگ ، شام شہر یاراں ، سر وادی سینا ، مرے دل مرے مسافر ، نسخہ ہائے وفا
پیدایش-----------:
فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ کے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ آپ کے والد ایک علم پسند آدمی تھے ۔ آپ کی والدہ کا نام سلطان فاطمہ تھا ۔
تعلیم----------- :
آپ نے ابتدای مذ ھبی تعلیم مولوی محمد ابراہیم میر سیالکوٹی سے حاصل کی ۔ بعد ازاں 1921 میں آپ نے سکاچ مشن سکول سیالکوٹ میں داخلہ لیا ۔ آپ نے میٹرک کا امتحان مرے سکول سیالکوٹ سے پاس کیا اور پھر ایف اے کا امتحان بھی وہیں سے پاس کیا ۔ آپ کے اساتذہ میں میر مولوی شمس الحق ( جو علامہ اقبال کے بھی استاد تھے)> اس بابت اختلاف سامنے آیا ہے ،حاشیہ ملاحظہ کیجئے< بھی شامل تھے ۔ آپ نے سکول میں فارسی اور عربی زبان سیکھی۔بی اے آپ نے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا اور پھر وہیں سے 1932 میں انگلش میں ایم اے کیا۔ بعد میں اورینٹل کالج لاہور سے عربی میں بھی ایم اے کیا۔
کیریر ---------- :
انہوں نے 1930ء میں ایلس فیض سے شادی کی۔19351 میں آپ نے ایم اے او کالج امرتسر میں لیکچرر کی حیثیت سے ملازمت کی۔ اور پھر ھیلے کالج لاہور میں ۔ 1942 میں آپ فوج میں کیپٹن کی حیثیت سے شامل ھوگے۔ اور محکمہ تعلقات عامہ میں کام کیا ۔ 1943 میں آپ میجر اور پھر 1944 میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی پا گے۔ 1947 میں آپ فوج سے مستعفی ہو کر واپس لاہور اگے۔ اور 1959 میں پاکستان ارٹس کونسل میں سیکرٹری کی تعینات ھوے اور 1962 تک وہیں پر کام کیا۔ 1964 میں لندن سے واپسی پرآپ عبداللہ ہارون کالج کراچی میں پرنسپل کی حیثیت سے ملازم ہو گئے۔ 1947 تا 1958 مدیر ادب لطیف مدیر لوٹس لندن، ماسکو ، اور بیروت
وہ بات جسکا سارے فسانے میں ذکر تک نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
9 مارچ 1951 میں آپ كو راولپنڈی سازش كیس میں معا ونت كے الزام میں حكومت وقت نے گرفتار كر لیا۔ آپ نے چار سال سرگودھا، ساھیوال، حیدر آباد اور كراچی كی جیل میں گزارے۔ آپ كو 2 اپریل 1955 كو رہا كر دیا گیا ۔ زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لكھی گئیں۔

حاشیہ:
اقبال اور فیض کے مشترکہ استاد مولوی شمس الحق نہیں تھے (حیرت انگیز طور پر یہ غلطی اردو وکی پیڈیا پر بھی ہے)۔ بلکہ یہ عظیم شخصیف شمس العلماء مولوی سید میر حسن کی ہے، یہ وہی سید میر حسن ہیں کہ اقبال نے اس وقت تک نائٹ ہڈ (سر) کا خطاب لینے سے انکار کر دیا تھا جب تک کہ مولوی صاحب کو خطاب نہ دیا جائے۔ (اقتباس از مراسلہ : محمد وارث)
بشکریہ : اردو وکی پیڈیا [/SIZE]
 

مغزل

محفلین
میری پسندیدہ ترین نظم :

پابجولاں چلو !
’آج بازار میں پابجولاں چلو“
چشمِ نم‘ جانِ شوریدہ کافی نہیں
تُہمتِ عشقِ پوشیدہ‘ کافی نہیں
آج بازار میں پابجولاں چلو
دست اَفشاں چلو‘
مست و رَقصاں چلو
خاکِ بَرسر چلو‘
خُوں بداماں چلو
راہ تکتا ہے‘ سب شہرِ جَاناں چلو
حاکمِ شہر بھی‘
مجمعِ عام بھی
تیرِ اِلزام بھی‘
سنگِ دُشنام بھی
صبحِ ناشاد بھی‘
روزِ ناکام بھی
اِن کا دم ساز‘ اپنے سوا کون ہے؟
شہرِ جاناں میں اب باصفا کون ہے؟
دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے؟
رختِ دل باندھ لو
دل فگار و‘ چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں‘
یارو چلو

فیض احمد فیض

[ame="http://www.youtube.com/watch?v=Ara199ZUiKQ"]پابجولاں چلو ![/ame]
 

مغزل

محفلین
ایک اور نظم ۔۔۔ ’’ کتے ‘‘
شاید ہم کچھ سبق حاصل کریں ۔۔
شاید ہم دموں پر پاؤں رکھنے سے پہلے جاگ جائیں۔
شاید ہم کراں کراں سے نجات حاصل کریں۔

کتے !

یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتے
کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی
زمانے کی پھٹکار سرمایہ اُن کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی
نہ آرام شب کو، نہ راحت سویرے
غلاظت میں گھر، نالیوں میں بسیرے
جو بگڑیں تو اک دوسرے سے لڑا دو
ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو
یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے
یہ فاقوں سے اکتا کے مرجانے والے
یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے
تو انسان سب سرکشی بھول جائے
یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں
یہ آقاؤں کی ہڈّیاں تک چبالیں
کوئی ان کو احساسِ ذلّت دلادے
کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے

فیض احمد فیض
[ame="http://www.youtube.com/watch?v=mEbUvlaf-Ag&feature=related"]کتے [/ame]
 

مغزل

محفلین
فیض صاحب کی ایک پنجابی نظم ’’ ربیا سچیا ‘‘
شاید ہم ۔۔۔۔۔۔ اپنے فرائض جان جائیں ۔
شاید ہم ۔۔۔ صم بکم والوں میں ہونے سے بچ جائیں
شاید ہم ۔۔ ان سے بچ جائیں جن کے دلوں پر مہر لگی ہے۔۔


ربّا سچّیا

ربّا سچّیا توں تے آکھیا سی
جا اوئے بندیا جگ دا شاہ ہیں توں
ساڈیاں نعمتاں تیریاں دولتاں نیں،
ساڈا نَیب تےعالیجاہ ہیں توں،
ایس لارے تے ٹور کَدی پُچھیا ای
کِیہہ ایس نِمانے تے بیتیاں نیں
کدی سار وی لئی اُو رب سائیاں
تیرے شاہ نال جگ کیہہ کیتیاں نیں
کتے دھونس پولیس سرکار دی اے
کتے دھاندلی مال پٹوار دی اے
اینویں ہڈّاں اچ کلپے جان میری
جیویں پھائی چ کونج کُرلاؤندی اے
چنگا شاہ بنایا ای رب سائیاں
پَولے کھاندیاں وار نہ آوندی اے
مینوں شاہی نئیں چاہیدی رب میرے
میں تے عزّت دا ٹُکّر منگنا ہاں
مینوں تاہنگ نئیں، محلاں ماڑیاں دی
میں تے جِِیویں دی نُکّر منگنا ہاں
میری مَنّیں تے تیریاں مَیں منّاں
تیری سَونہہ جے اک وی گل موڑاں
جے ایہہ مانگ نئیں پُجدی تیں ربّا
فیر میں جاواں تے رب کوئی ہور لوڑاں

ٍفیض احمد فیض
 

محمد وارث

لائبریرین
مغل صاحب، ایک آدھ تصحیح پلیز:

اول، تو یہ کہ فیض 1984ء میں فوت ہوئے سو یہ انکی چوبیسویں برسی ہے نہ کہ 32ویں!

دوسرا یہ کہ اقبال اور فیض کے مشترکہ استاد مولوی شمس الحق نہیں تھے (حیرت انگیز طور پر یہ غلطی اردو وکی پیڈیا پر بھی ہے)۔ بلکہ یہ عظیم شخصیف شمس العلماء مولوی سید میر حسن کی ہے، یہ وہی سید میر حسن ہیں کہ اقبال نے اس وقت تک نائٹ ہڈ (سر) کا خطاب لینے سے انکار کر دیا تھا جب تک کہ مولوی صاحب کو خطاب نہ دیا جائے۔

فیض نے خود بھی سید میر حسن کا ذکر کیا ہے اور انکے کلیات کے فلیپ پر بھی یہ معلومات موجود ہیں اور انگلش وکی پیڈیا پر بھی۔

والسلام
 

مغزل

محفلین
تصحیح کیلے ممنون ہوں‌وارث صاحب میں نے مدون کرلیا ہے ۔
آج کل میرا دماغ ٹھکانے نہیں / 84 سے 2008 تک میں
جمع تفریق کرکے جانے کیسے 32 سال نکال لیئے ۔۔
والسلام
 

مغزل

محفلین
شکیل احمد صاحب اور جناب خاور چودہری
آداب ۔۔
آپ کی محبیتں ، جو آپ نے ناچیز کی کوشش کو سراہا ۔
شکیل صاحب ۔ میں نے احباب اور بزرگوں سے سنا ہے
کہ فیض صاحب کا پنجابی کلام بھی مجموعہ کی صورت میں
ہے ۔۔ مگر مجھے آج تک میسر نہ آسکا ۔ ۔ وارث صاحب
سے معلوم کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ نثری کتابیں بھی ہیں۔
والسلام
 

فرخ منظور

لائبریرین
فیض کا پنجابی کلام الگ سے دستیاب نہیں‌ ہے - مجھے یاد ہے کہ میں سکول جا رہا تھا اور اخبار میں یہ خبر پڑھی تھی کہ فیض صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور اکثر اخبار والوں نے یہ شعر لگایا تھا جو کہ فیض صاحب کا نہیں ہے -
اجل کے ہاتھ کوئی آ رہا ہے پروانہ
نہ جانے آج کی فہرست میں رقم کیا ہے
 
Top