ربابِ زیست
(تحریرنصرت زہرہ)
شاہ جہاں بادشاہ کے دربار میں ایک شاعرِ بے بدل بادشاہ کو رموزِ شاعری کی تعلیم دیا کرتا تھا۔مگر کون جانتا تھا کہ اس کی نسلوں میں ایک ایسی کلی جنم لے گی ادب جس پر نازاں ہوگا،اب وقت ایک دربار ہے اور مسلسل ایک اٹھ جانے والی ہستی سے فیض پارہا ہے اب بھی وادیء مہران کے...
غزل
(خیال امروہوی)
طریق ِ فکر وعمل مستقل خلاف ملا
غلیظ جسم پہ کمخواب کا لباس ملا
مخالفوں کے وطیرے تو مختلف تھے مگر
جو ہم خیال تھا وہ بھی مرے خلاف ملا
گماں یہی تھا کہ ہوگا خفیف سارخنہ
کیا جو غور تو ہر قلب میں شگاف ملا
بشر بہ فیض ِ خرد مشتری پہ جا پہنچا
مگر خطیبِ حرم محو ِ اعتکاف...
غزل
(رخشندہ نوید)
تو نے سوچا ہی نہیں کچھ بھی ہٹا کر اس سے
اب بچھڑنا ہے تو پھر خود کو جدا کر اس سے
وہ بگڑتا ہے تو دنیا ہی بگڑ جاتی ہے
اس لئے رکھنی پڑی مجھ کو بنا کر اس سے
ایک جگنو تھا مگر اسِ سے جلے کتنے چراغ
رابطے بڑھتے گئے ربط بڑھا کر اِس سے
بات کیا ہے کہ اٹھائی ہی نہ...
غزل
(حمیرا راحت)
بچھڑتے وقت بھی رویا نہیں ہے
یہ دل اب ناسمجھ بچہ نہیں ہے
میں ایسے راستے پہ چل رہی ہوں
جو منزل کی طرف جاتا نہیں ہے
محبت کی عدیم الفرصتی میں
اسے چاہا مگر سوچا نہیںہے
لبوں پر مسکراہٹ بن کے چمکا
جو آنسو آنکھ سے ٹپکا نہیں ہے
جب آئینہ تھا تب چہرہ نہیں تھا
ہے اب...
انتظار
(سرور عالم راز سرور)
ترے خیال کی سوگند، آرزو کی قسم
دریدہ دامن دل، چشم بے بسی پرنم
وہی جہان تمنا تھا اور وہی تھے ہم
دل و دماغ پہ تھا اضطراب کا عالم
شب امید ستاروں کے ساتھ جاگے ہم
رباب قلب تھا یوں آشنائے زیر وبم
کہ گھل کے رہ گئی کانوں میں کرب کی سر گم
ادھر تھے پائے جنوں اور...
نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(سلمان غازی)
یہ عاصی کس طرح بھیجے کوئی ان کو پیام اپنا
مدینے کے مسافر عرض کرنا بس سلام اپنا
نہیںموقوف اُن صلی اللہ علیہ وسلم شان اس عاصی کی مدحت پر
مشرف ذکرِ عالی سے کیا ہے بس کلام اپنا
بھلا تصدیقِ اُمت کی کہیں ان کو ضرورت تھی خوشا
کہ خیر...
نعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(حسن فرخ)
حضور صل علٰی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلواۃ و سلام
یہ ہر نفس نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلواۃ و سلام
سلام آپ پہ یا سیدِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
مرے حبیب خدا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر صلواۃ و سلام
پہنچ کے آپ کے دربار میںخدا...
غزل
(سرور عالم راز سرور)
کیا قیامت تھی کیا قیامت تھی
صاحبو! ہم کو جب محبت تھی
سرزش کے لیئے ہی آجاتے
آپ کو اس میںکیا قباحت تھی؟
ہوش آیا تو یہ ہوا معلوم
بے خودی کس قدر غنیمت تھی
غم نے مجبور کر دیا ورنہ
بات سننے کی کس کو فرصت تھی؟
وقت آخر جو آپ آئے ہیں
آخر اس کی بھی کیا ضرورت...
افسوس کی کیا بات ہے بھائی۔۔
دل چھوٹا نہیں ہے مُٹھی کے برابر ہی ہے۔۔۔
اس طرح کے کاموں سے اب دل بھر چکا۔۔ خاص طور پر ادھر۔۔۔ میں اَن پڑھ ، جاہل اور غیرتہذیب یافتہ ہوں بھائی۔۔ تمام باتیں تہذیب کے دائرے سے باہر ہو رہی ہیں میری۔۔اور الفاظ وغیرہ کا چناؤ بھی عقل و دانش رکھنے والی ہستیوں کو،...
غزل
(سرور عالم راز سرور)
سنا ہے اربابِِ عقل و دانش ہمیں یوں دادِ کمال دیںگے
"جنوں کے دامن سے پھول چن کر خرد کے دامن میں ڈال دیںگے!"
ذرا بتائیں کہ آپ کب تک فریبِ حسن و جمال دیں گے؟
سکوں کےبدلہ میں تحفہءغم ، قرار لے کے ملال دیںگے!
ہم اپنے دل سے خیالِ دیر و حرم کو ایسے نکلال دیں گے...
غزل
(سرور عالم راز سرور)
دل کو یوں بہلا رکھا ہے
درد کا نام دَوا رکھا ہے
آؤ پیار کی باتیں کرلیں
اِن باتوں میںکیا رکھا ہے
اور بھی ہے کچھ باقی پیارے؟
کون سا ظلم اُٹھا رکھا ہے؟
جھلمل جھلمل کرتی آنکھیں
جیسے ایک دیا رکھا ہے
عقل نے اپنی مجبوری کا
تھک کر نام خدا رکھا ہے
راہِ...
غزل
(مرزا اسد اللہ خاں غالب رحمتہ اللہ علیہ)
شوق ہر رنگ رقیب سر و ساماں نکلا
قیس تصویر کے پردے میںبھی عریاں نکلا
زخم نے داد نہ دی تنگئی دل کی یارب
تیر بھی سینہءبسمل سے پر افشاں نکلا
بوئے گل، نالہء دل، بوئے چراغ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
دل حسرت زدہ تھا مائدہء لذت...