غزل
(محمد طارق غازی - آٹوا ، کینیڈا)
بدن کا بیسواں حصہ یہ سر ہے
مرا افسانہ کتنا مختصر ہے
جہاناہل حق زیرو زبر ہے
اسی میں امتحان خیرو شر ہے
وہی معتوب ہیں اس داستاں میں
جنہیں عنوان ہستی کی خبر ہے
تمہیں سمجھا کے ہم تو تھک چکے ہیں
کہ بھائی راستہ یہ پُر خطر ہے
خرد جس کو ملی تھی...
غزل
(حفیظ جالندھری )
غم موجود ہے آنسو بھی ہیں، کھا تو رہا ہوں پی تو رہا ہوں
جینا اور کسے کہتے ہیں، اچھا خاصا جی تو رہا ہوں
یارو میں نے اپنا سینہ اپنے ہاتھوں چاک کیا ہے
سچ کہتے ہو لیکن دیکھو اپنے ہاتھوں سی تو رہا ہوں
خون جگر آنکھوں سے نہ ٹپکا، منہ سے شعلہ بن کر لپکا
شعبدہ گر ہوں مجھ...
ناروا کہیئے ناسزا کہیئے - داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
ناروا کہیئے ناسزا کہیئے
کہیئے کہیئے مجھے بُرا کہیئے
تجھ کو بدعہد و بیوفا کہیئے
ایسے جھونٹے کو اور کیا کہیئے
درد و دل کا نہ کہیئے یا کہیئے
جب وہ پوچھے مزاج کیا کہیئے
پھر نہ رُکیئے جو مدعا...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
آپ کا اعتبار کون کرے
روز کا انتظار کون کرے
ذکر مہر و وفا تو ہم کرتے
پر تمہیں شرمسار کون کرے
جو ہو اوس چشم مست سے بیخود
پھر اوسے ہوشیار کون کرے
تم تو ہو جان اِک زمانے کی
جان تم پر نثار کون کرے
آفتِ روزگار جب تم ہو
شکوہء روزگار کون کرے...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
یوں چلئے راہِ شوق میں جیسے ہوا چلے
ہم بیٹھ بیٹھ کر جو چلےبھی تو کیا چلے
بیٹھے اُداس اُٹھے پریشان خفا چلے
پوچھے تو کوئی آپ سے کیا آئے کیا چلے
آئینگی ٹوٹ ٹوٹکر قاصد پر آفتیں
غافل اِدھر اُدھر بھی ذرا دیکھتا چلے
ہم ساتھ ہو لئے تو کہا اُس نے غیر سے...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
کہتے ہیں جس کو حور وہ انساں تمہیں تو ہو
جاتی ہے جس پہ جان مری جاں تمہیں تو ہو
مطلب کے کہہ رہے ہیں وہ دانا ہمیں تو ہیں
مطلب کے پوچھتی ہو وہ ناداں تمہیں تو ہو
آتا ہے بعد ظلم تمہیں کو تو رحم بھی
اپنے کئے سے دل میں پشیماں تمہیں تو ہو
پچھتاؤ گے...
پاپولر میرٹھی
پاپولر میرا تخلص ہے یہی اعجاز ہے
میرا جو بھی شعر ہے دنیا میں سرفراز ہے
آپریشن خوب ہی مضمون کے کرتا ہوں میں
ذہن میرا نوکِ نشتر کی طرح ممتاز ہے
---------------------------
میں ہوں جس حال میں اے میرے صنم رہنے دے
تیغ مت دے میرے ہاتھوں میں قلم رہنے دے
میں تو شاعر ہوں مرا دل...
نعت مصطفی ﷺ
(علامہ السید ذیشان حیدر جوادی کلیم الہ آبادی )
جہاں میں وہ ازل کے حُسن کا آئینہ دار آیا
کہ جس کو دیکھ کر خود خالق اکبر کو پیار آیا
حسیں ایسا کہ اُس کے حُسن پر یوسف بھی ہو قرباں
اُسی کے عکس رُخ سے حُسن یوسف پر نکھار آیا
وہ جس کی زندگی تھی اک نمونہ حُسنِ سیرت کا
وہ جس...
مذہبِ انسانیت سب سے مقدم ہے
(حسن اللہ ہما)
جونہی گونجی صدا مینار سے اللہ اکبر
کی
درِ مندر کھُلا اور
رام جپ کر سنکھ پنڈت نے بجایا ہے
کسی نے گوردوارے میں گرو
کہتے ہوئے سر کو عقیدت جھکایا
گرنتھ کو آنکھوں سے چوما ہے
کلیسا میںخداوندِیسوع
کہہ کر صلیبِء شق پر راہب نے لب رکھے
کہیں...
بہت ہی خوبصورت کلام شیئر کیا ہے جناب نے۔۔عمدہ بہت ہی عمدہ۔۔۔آپ کا شاعرانہ ذوق بہت ہی اعلٰی ہے جناب! جیتے رہیں۔۔اور مزید کلام ہم سے شیئر کریں۔۔۔شکریہ۔۔۔ :happy:
غزل
(فرزانہ خان نیناں)
روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
روز سوچا ہے کہ تم میرے ہو میرے ہونا
میں تو اک کانچ کے دریا میںبہی جاتی ہوں
گنگناتے ہوئے ہمراز مجھے سُن لو نا
میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیںچاندی سونا
میری خاموشی کو چپکے سے سجا دو آکر...
غزل
(فرزانہ خان نیناں)
دل سے مت روٹھ مرے دیکھ منالے اُس کو
کھو نہ جائے کہیںسینے سے لگا لے اُس کو
وہ مسافر اُسے منزل کی طرف جانا ہے
اِس لئے کر دیا رستے کے حوالے اس کو
مدتوں وجد میں رہتے ہوئے دیوانے کو
ہوش آیا ہے تو ہر بات سنالے اس کو
کس لئے اَب شبِ تاریک سے گبھراتی ہوں
خود ہی...
غزل
(فرزانہ خان نیناں)
بسی ہے یاد کوئی آکے میرے کاجل میں
لپٹ گیا ہے اَدھورا خیال آنچل میں
میں ایک سیپ ابھی مجھ کو تہہ میں رہنے دو
گہر بنا نہیںکرتے ہیں ایک دو پَل میں
خزاں کا دور ہے لیکن کسی کی چاہت سے
دھڑک رہی ہے بہار ایک ایک کونپل میں
میں زندگی کے لیئے پھول چننا چاہتی ہوں...
غزل
(شہزاد نیر)
جب بھی چپکے سے نکلنے کا ارادہ باندھا
مجھ کو حالات نے پہلے سے زیادہ باندھا
چلتے پھرتے اسے بندش کا گماں تک نہ رہے
اس نے انسان کو اس درجہ کشادہ باندھا
کتنی بھی تیز ہوئی حرص وہوس کی بارش
ہم نے اک تارِ توکل سے لبادہ باندھا
یک بیک جلوہء تازہ نے قدم روک لئے
میں نے...
زندگی کے ہجر میں
ہماری کلاسیکی شاعری میں جذبوں اور کیفیتوں کو بیان کرنے کی جو طاقت ہے وہ ہر زمانے اور ہر فرد کے لئے ہمیشہ تخلیقی تحریک کا ذریعہ ہوتی ہے۔ یہی میرے ساتھ بھی ہوا۔ شاہ عبدالطیف بھٹائی نے سُر۔سامونڈی میں دورسمندر پار جانے والے تاجروں کی برہن بیوی کی واردات اور کیفیت کچھ اس طرح...