نتائج تلاش

  1. کاشفی

    بیٹیاں پھول ہیں - صدف مرزا

    پسندیدگی کے لیئے بیحد شکریہ جناب فاتح صاحب اور سخنور صاحب۔۔
  2. کاشفی

    حاصلِ عشقِ بتاں، سب رائگاں ہو جائے گا - ضامن جعفری

    شکریہ جناب فاتح صاحب۔۔۔:happy: ہنشی کیوں آئی؟
  3. کاشفی

    حاصلِ عشقِ بتاں، سب رائگاں ہو جائے گا - ضامن جعفری

    غزل (ضامن جعفری) "ایسی باتوں سے وہ کافر، بدگماں ہو جائے گا" (غالب) حاصلِ عشقِ بتاں، سب رائگاں ہو جائے گا آہِ سوزاں، دیکھ! زخمِ دل دُھواں ہو جائے گا لے تَو لوں بوسہ تری دہلیز کا آکر مگر مرجعِ عشّاقِ عالم آستاں ہو جائے گا خاک میری مائل پرواز ہے، بن کر غبار ہے یقین مجھ کو، تُو اِک دن...
  4. کاشفی

    راز دل کا بتا کے پچھتائے - فوزیہ مغل

    غزل (فوزیہ مغل) راز دل کا بتا کے پچھتائے ان کی باتوں میں آکے پچھتائے حال پوچھا نہ زندگی میں کبھی خاک میں وہ ملا کے پچھتائے کوئی اپنا نظر نہیں آیا ان کی محفل میں جا کے پچھتائے زخمِ دل پر نمک چھڑکتے رہے زخم ان کو دِکھا کے پچھتائے نام ہوتا جو عشق میں مرتے ہم تو د امن بچا...
  5. کاشفی

    ساغر صدیقی نظر نظر بیقرار سی ہے نفس نفس میں شرار سا ہے - ساغر صدیقی

    شکریہ جناب م م مغل صاحب۔۔سخنور صاحب اور محمود احمد غزنوی صاحب آپ دونوں حضرات کا بھی بیحد شکریہ۔۔ سب خوش رہیں.۔
  6. کاشفی

    ساغر صدیقی نظر نظر بیقرار سی ہے نفس نفس میں شرار سا ہے - ساغر صدیقی

    آپ درست فرما رہے ہیں ایسا ہی ہے۔۔۔
  7. کاشفی

    روشِ خام پہ مردوں کی نہ جانا ہرگز - پنڈت برج ناراین چکبست لکھنوی

    :battingeyelashes: شکریہ جناب سخنورصاحب۔۔ محمود احمد غزنوی صاحب اور آبی ٹو کول صاحب آپ دونو ں حضرات کا بھی بیحد شکریہ۔۔
  8. کاشفی

    بیٹیاں پھول ہیں - صدف مرزا

    بیٹیاں پھول ہیں۔۔۔۔ (صدف مرزا - ڈنمارک) جناب محمود شام کی اثر آفریں نظم سے متاثر ہو کر۔۔۔۔۔۔ بیٹیاں پھول ہیں۔۔۔۔ اور پھول کے مقدر میں بالآخر بکھرنا ہے انہیں تو بس مہکنا ہے سجا دو سیج پر چاہے چڑھا دو یا مزاروں پر سہرے میں انہیں گوندھو لگا دو یا کہ مدفن میں انہیں تو رنگ بھرنا ہے...
  9. کاشفی

    بیٹیاں پھول ہیں - محمود شام

    بہت شکریہ ۔۔خوش رہیں۔۔
  10. کاشفی

    مُحب تیرے محبوب کا ہوں الٰہی! - جاوید بدایونی

    دعا (جاوید بدایونی) مُحب تیرے محبوب کا ہوں الٰہی! میری درگزر ہر خطا کر دے یارب میں ہوں تشنکمِ شرابِ مُوادت مئےِ حُبِ احمد صلی اللہ علیہ وسلم عطا کر دے یارب کرم تیرا سب پہ ہے سب پہ رہے گا مسلمانوں پر کچھ سِوا کر دے یارب جو مظلوم ہیں اُنکو حفظ و امان دے جو ظالم ہیں اُنکو فنا کر...
  11. کاشفی

    کلی کے بس میں، نہ کچھ گل کے اختیار میں ہے - ضامن جعفری

    شکریہ جناب فاتح صاحب! خوش رہیں۔۔ سب کچھ بتا دوں ہاں؟
  12. کاشفی

    ساغر صدیقی نظر نظر بیقرار سی ہے نفس نفس میں شرار سا ہے - ساغر صدیقی

    شکریہ جناب فاتح صاحب۔۔ پر اسرار سا ہے ہی ہے۔۔لیکن آپ زیادہ بہتر جانتے ہیں۔۔اگر کچھ گڑبڑ ہے تو تصیح کردیں۔۔ :happy:
  13. کاشفی

    روشِ خام پہ مردوں کی نہ جانا ہرگز - پنڈت برج ناراین چکبست لکھنوی

    بیحد شکریہ جناب فاتح صاحب، آداب عرض ہے!
  14. کاشفی

    ساغر صدیقی نظر نظر بیقرار سی ہے نفس نفس میں شرار سا ہے - ساغر صدیقی

    غزل (ساغر صدیقی) نظر نظر بیقرار سی ہے نفس نفس میں شرار سا ہے میں جا نتا ہوں کہ تم نہ آؤگے پھر بھی کچھ انتظار سا ہے مرے عزیزو! میرے رفیقو! چلو کوئی داستان چھیڑو غم زمانہ کی بات چھوڑو یہ غم تو اب سازگار سا ہے وہی فسر دہ سا رنگ محفل وہی ترا ایک عام جلوہ مری نگاہوں میں بار سا تھا مری نگا ہوں...
  15. کاشفی

    روشِ خام پہ مردوں کی نہ جانا ہرگز - پنڈت برج ناراین چکبست لکھنوی

    غزل پنڈت برج ناراین چکبست لکھنوی روشِ خام پہ مردوں کی نہ جانا ہرگز داغ تعلیم میں اپنی نہ لگانا ہر گز پرورش قوم کی دامن میں تمہارے ہوگی یاد اس فرض کی دل سے نہ بھلانا ہرگز نقل یورپ کی مناسب ہے مگر یاد رہے خاک میں غیرتِ قومی نہ ملانا ہرگز رنگ ہے جن میں مگر بوے وفا کچھ بھی نہیں...
  16. کاشفی

    کلی کے بس میں، نہ کچھ گل کے اختیار میں ہے - ضامن جعفری

    حمدِ غفور و رحیم (ضامن جعفری) کلی کے بس میں، نہ کچھ گل کے اختیار میں ہے یہ حسنِ کل کی جھلک حسنِ مستعار میں ہے لب و زباں کی، فقط لرزشوں میں، لطف کہاں؟ مزہ، جو روح صدا دے، تَو ایک بار میں‌ہے ہَوا کے دوش پہ مرکز کی سمت خاک چلی تڑپ جو دل میں تھی میرے، وہی غبار میں ہے فرازِ طُور پہ، جانے...
  17. کاشفی

    ویل کم بیک مشرف

    شکریہ فرحان دانش بھائی۔۔عظیم سالار اور عظیم رہنما کو ویلکم کرنے کے لیئے۔۔۔بیحد شکریہ۔۔خوش رہیں۔۔ انشاء اللہ بہت جلد عظیم سالار ، فخر ملت و اُمت جناب عزت مآب پرویز مشرف سید اس مملکت خدا داد پاکستان میں تشریف آوری فرمائیں گے۔۔۔انشاء اللہ۔۔ لیکن اس سے پہلے کچھ کام کرنے ہیں جو انہوں نے اپنے سب...
  18. کاشفی

    اتنا تڑپے ہیں بس انتہا ہو گئی - اسٹیو الماس

    غزل (اسٹیو الماس) اتنا تڑپے ہیں بس انتہا ہو گئی زندگی بن ترے کیا سے کیا ہوگئی بے بسی کا عجب ہے یہ عالم کہ بس جسم سے جان جیسے جُدا ہو گئی موت آجا گلے سے لگا لے مجھے کیا کہوں زندگی بے وفا ہو گئی ہر کوئی مجھ سے روٹھا لگے آج کل آشنائی بھی نا آشنا ہو گئی کل جسے درد کا نام دیتے...
Top