نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    ہے جیتے جی تو مجھے کوئے یار میں رونا رہے گا مرگ کے "بعد از" مزار میں رونا (سوز)--- دکن میں بعض لوگ "بعد میں" کی جگہ "بعد از" بولتے ہیں، سوز کے مندرجہ بالا شعر میں یہی لفظ لکھا ہوا ہے۔
  2. کاشفی

    نہ کچھ شوخی میں کم تھے دست و پا شوخ - لالہ مکندلعل جوہری

    محترم ہستیوں ۔(الف عین صاحب ، سخنور صاحب اور فاتح صاحب) کا غزل کو پسند کرنے پرتہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔گر قبول افتد زہے عزو شرف۔ سخنور صاحب کی نصیحت کے مطابق تصیح کر چکا ہوں۔۔ اس کے لیئے بھی آپ کا بیحد شکریہ۔۔
  3. کاشفی

    نہ کچھ شوخی میں کم تھے دست و پا شوخ - لالہ مکندلعل جوہری

    غزل (شاعر نازک خیال لالہ مکندلعل صاحب المتخلص بہ جوہری ساکن قصبہ کاکوری ضلع لکھنؤ) نہ کچھ شوخی میں کم تھے دست و پا شوخ حِنا نے اور بھی اُن کو کیا شوخ مجسم شوخیوں سے ہے مرا شوخ نگاہ و غمزہ و ناز و ادا شوخ اُٹھایا میرے خونریزی کا بیڑا ہوئے لب پان کھا کر اُن کے شوخ ہنسی پھولوں...
  4. کاشفی

    آج بے پردہ جو وہ مہر منور نِکلا - لالہ مکندلعل جوہری کاکوری لکھنوی

    غزل (شاعر نازک خیال لالہ مکندلعل صاحب المتخلص بہ جوہری ساکن قصبہ کاکوری ضلع لکھنؤ) آج بے پردہ جو وہ مہر منور نِکلا پردہء ابر میں چھپکر مہ انور نِکلا قامت یار قیامت سے بھی بڑھ کر نِکلا چشمِ بدور غضب فتنہ محشر نکلا ظلم پر ظلم سہے اُف نہ نِکالا مُنہ سے دل جسے سمجھے تھے وہ سینہ...
  5. کاشفی

    تو اپنی محبت کا اثر دیکھ لیا کر (عمران شناور)

    بہت ہی سُندر غزل ہے جناب عمران شناور صاحب۔۔۔عمدہ بھئی۔
  6. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    بہت سی کُرسیاں اس ملک میں لاشوں پہ رکھی ہیں یہ وہ سچ ہے جسے جھوٹے سے جھوٹا بول سکتا ہے سیاست کی کسوٹی پر پرکھیئے مت وفاداری کسی دن انتقامََ میرا غصہ بول سکتا ہے (منور رانا - ہندوستان)
  7. کاشفی

    کاش ایسا کوئی منظر ہوتا - طاہر فراز

    کاش ایسا کوئی منظر ہوتا میرے کاندھے پہ تیرا سر ہوتا ہے جمع کرتا جو میں آئے ہوئے سنگ سر چھپانے کے لئے گھر ہوتا اس بلندی پہ بہت تنہا ہوں میں کاش میں سب کے برابر ہوتا اُس نے اُلجھا دیا دنیا میں مجھے ورنہ ایک اور قلندر ہوتا وہ جو ٹھوکر نہ لگاتے مجھ کو میں‌ کسی راہ کا پتھر ہوتا...
  8. کاشفی

    امجد اسلام امجد چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن - امجد اسلام امجد

    غزل (امجد اسلام امجد) چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن رازوں کی طرح اترو میرے دل میں کسی شب دستک پہ میرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہالوں بادل کی طرح جھوم کے گھِر آؤ کسی دن خوشبو کی طرح گزرو میرے دل کی گلی سے پھولوں...
  9. کاشفی

    اختر شیرانی اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے؟ - اختر شیرانی

    غزل (اختر شیرانی) اے دل وہ عاشقی کے فسانے کدھر گئے؟ وہ عمر کیا ہوئی، وہ زمانے کدھر گئے؟ تھے وہ بھی کیا زمانے کہ رہتے تھے ساتھ ہم وہ دن کہاں ہیں اب وہ زمانے کدھر گئے؟ ہے نجد میں سکوت ہواؤں کو کیا ہوا لیلائیں ہیں خموش دوانے کدھر گئے؟ صحراء و کوہ سے نہیں اٹھی صدائے درد وہ قیس و کوہ...
  10. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    فصیلِ شہر سے دیکھو تو رونقیں کیا کیا مکینِ شہر سے پوچھو تو آنکھ بھر آئے کرید تے رہے شب بھر دکھوں کی چنگاری فسادِ شہر سے بچ کر جو لوگ گھر آئے (قاضی ظہیر)
  11. کاشفی

    نوحہ - منشی دیا نارائن نگم - از: راز چاند پوری

    نوحہ - منشی دیا نارائن نگم (المتوفی 1943ء) (از: راز چاند پوری) منشی دیانارائن نگم صاحب پچھلی صدی کے اول دور کے مشہور شاعر، ادیب اور صحافی تھے اور انہوں نے اپنی پوری زندگی اُردو کی ترقی اور ابلاغ‌کے لئے وقف کر رکھی تھی۔ ایک مدت تک وہ کانپور (بھارت) سے "زمانہ" کے نام سے ایک موقر اور معیاری...
  12. کاشفی

    آج کا شعر - 4

    زندگی نے ہمیں فرصت ہی نہیں دی ورنہ سامنے تجھ کو بٹھا ،بیٹھ کے دیکھا کرتے وہ خود ملنے نہیں آیا تو اس کے گھر گیا میں حدیں معلوم تھیں لیکن تجاوز کر گیا میں محبت سے ضرورت کچھ زیادہ کھینچتی ہے اسے گھر پر اکیلا چھوڑ کر دفتر گیا میں میرے چاروں طرف نفرت کا پہرہ لگ چکا ہے مگر پھر بھی...
  13. کاشفی

    لاہور زون پنجاب - تنظیم نو ، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان

    اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمارے ملک کو ، ہمارے قائد تحریک جناب عزت مآب الطاف حسین صاحب کو ، جناب پرویز مشرف سید صاحب کو اور تمام دنیا کو اپنے حفظ و امان میں رکھے - سچائی اور حق پرستوں کی جیت ہو - آمین کر عطا امن سکوں چین محبت کا جہاں کر دے فرمان نیا کن کی زباں سے جاری
  14. کاشفی

    کوئی خوش لمس دستِ یاسمیں - نصرت زہرا

    کوئی خوش لمس دستِ یاسمیں (نصرت زہرا) پروین جب اس دنیا سے رخصت ہوئی تو اسکی ذات کا سب سے خوبصورت اثبات محض پندرہ برس کاتھا اس نے ایک بار کہا تھا کہ وہ چاہتی ہے کہ مراد کو کامیاب انسان کے روپ میں دیکھے مگر اس کی یہ خواہش تشنہ رہ گئی اب جبکہ اسے دنیا سے کوچ کئے پندرہ برس گزر گئے ہیں...
  15. کاشفی

    خواب کی جادو گری رہتی ہے - کاشف حسین غائر

    غزل (کاشف حسین غائر) خواب کی جادو گری رہتی ہے نیند آنکھوں میں بھری رہتی ہے جیسے رہتا ہی نہیں ہوں میں یہاں اک عجب بے خبری رہتی ہے ہم خیالوں میں سفر کرتے ہیں ہمسفر دربدری رہتی ہے دل ہے وہ آئینہ خانہ جس میں اک عجب عکس گری رہتی ہے خشک ہو جاتے ہیں پتے لیکن شاخ امکاں تو ہری رہتی...
  16. کاشفی

    ایسا نہیں کہ دھیان جفا تک نہیں گیا - کاشف حسین غائر

    غزل (کاشف حسین غائر) ایسا نہیں کہ دھیان جفا تک نہیں گیا تم سے ملے بغیر رہا تک نہیں گیا کیا رنگ تھے جو ہم سے سمیٹے نہیں گئے کیا خواب تھا جو ہم سے لکھا تک نہیں گیا اک قہقہوں کی گونج تھی جو گونجتی رہی اک دل کا شور تھا جو سنا تک نہیں گیا آئی ہوا خود آپ بجھانے چراغ کو کوئی چراغ لے...
  17. کاشفی

    اَنا کے ہات سے باہر تو نکلو - افتخار راغب

    غزل (افتخار راغب) اَنا کے ہات سے باہر تو نکلو حصارِ ذات سے باہر تو نکلو کسے کہتے ہیں صحرا جان لو گے حسیں باغات سے باہر تو نکلو قدم بوسی کرے گی کامرانی کھٹن حالات سے باہر تو نکلو سمجھ لو گے کہ دنیا کیا بلا ہے کبھی دیہات سے باہر تو نکلو ہمیں بھی کچھ ہو احساسِ جدائی ہماری ذات...
Top