ہم اپنا حال کہیں تم کو نیند آجاوے
کہانی ہی سہی اک شب ذرا سنو تو سہی
بہے ہیں اشکوںسے نالے ہوئے ہیں بحر محیط
ہماری آنکھوں کا یہ ماجرا سنو تو سہی
تم ابتدا ہی میں کہتے ہو اک کہانی ہے
ہمارے حال کو تاانتہا سنو تو سہی
کھلونے پریوں کے ہم کھیلتے رہے طفلی میں
ہمارے عشق کی یہ ابتدا سنو...