انشا اللہ خان انشا کلامِ انشا ء -میر انشاء اللہ خاں

کاشفی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 23, 2010

  1. کاشفی

    کاشفی محفلین

    مراسلے:
    15,384
    کلامِ انشاء
    تعارف شاعر:
    انشا‌تخلص، میر انشاء اللہ خاں نام، بیٹے ہیں حکیم میر ماشاء اللہ خان کے، مصدر جن کا تخلص تھا۔ عجب شخص خوش اختلاط اور صاحب استعداد ہے۔ سوائے قصیدوں کے مثنویان زبان عربی میں اُنہوں نے نظم کی ہیں، اور ترکی کی غزلیں بھی ان کی خالی کیفیت سے نہیں ہیں۔ زبان فارسی میں صاحب دیوان ہیں- کشمیری اور مارواڑی کے سوائے اور بھی بہت سی بولیوں کے زبان دان ہیں۔ دیوان ان کا ریختہ میں مشہور ہے اور کلام ان کا ظرافت اور خوش اختلاطی سے معمور ۔ یہ اشعار ان کے نتائج افکار سے ہیں۔


    گالی سہی، ادا سہی، چینِ جبیں سہی
    یہ سب سہی، پر ایک نہیں کی نہیں سہی

    گر نازنیں کے کہنے سے مانا ہو کچھ بُرا
    میری طرف کو دیکھئے! میں نازنیں سہی

    آگے بڑھے جو جاتے ہو کیوں کون ہے یہاں
    جو بات تجھ کو کہنی ہے مجھ سے یہیں سہی

    منظور دوستی جو تمہیں ہے ہر ایک سے
    اچھا تو کیا مضائقہ! انشا سے کیں سہی

    ----------------------
    بندہ اُسے جب نظر پڑا ہے
    بولا ہے "چل اُٹھ، کدھر پڑا ہے"

    ماخذ: گلش ہند از میرزا علی لطف
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    ماشا اللہ عمدہ انتخاب ہے ۔شکریہ کاشفی صاحب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر