اچھی صورت پہ غضب ٹوٹ کے آنا دل کا
یاد آتا ہے ہمیں ہائے زمانا دل کا
تم بھی منہ چوم لو بے ساختہ پیار آ جائے
میں سناؤں جو کبھی دل سے فسانا دل کا
نگہِ یار نے کی خانہ خرابی ایسی
نہ ٹھکانا ہے جگر کا نہ ٹھکانا دل کا
پوری مہندی بھی لگانی نہیں آتی اب تک
کیوں کر آیا تجھے غیروں سے لگانا دل کا
غنچۂ گل...