ہونٹ پہ انگلی رکھ لے دیدۂِ نم سے سچا کوئی نہیں
دل کی محرم آنکھ ہے اور محرم سے سچا کوئی نہیں
آپ سے جھوٹا کوئی نہیں اور ہم سے سچا کوئی نہیں
عشق بھی سچا ہو گا لیکن غم سے سچا کوئی نہیں
ان کو کیا معلوم کمر کس بوجھ سے ٹوٹی جاتی ہے
تیرے کاتب جھوٹے ہیں آدم سے سچا کوئی نہیں
مایا ہے سب دھوکا ہے سب...