ہم ترے عشق پہ مغرور نہ ہو جائیں کہیں
اس قدر پاس نہ آ دور نہ ہو جائیں کہیں
ہمیں آئینہ بنا لے کہ یہ ساحر آنکھیں
اپنے ہی سحر سے مسحور نہ ہو جائیں کہیں
سینہ تابوت نہ بن جائے کسی بلبل کا
خوشبوئیں باغ کی کافور نہ ہو جائیں کہیں
مت ہنسا اس قدر اے نوبتِ حالات ہمیں
جو فقط زخم ہیں ناسور نہ ہو جائیں کہیں...