نتائج تلاش

  1. کاشفی

    ترے در پہ حاضری کی کبھی ہم ادا نہ سیکھے

    سبحان اللہ۔ بہت عمدہ۔۔ جزاک اللہ
  2. کاشفی

    ترے وجود سے عالم کو یہ ظہور ملا

    سبحان اللہ ۔ جزاک اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
  3. کاشفی

    رتبہ کونین میں ہے ارفع واعلی تیرا

    جزاک اللہ۔ بہت ہی خوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
  4. کاشفی

    حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے اشعار کا منظوم ترجمہ

    بہت عمدہ ! سبحان اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
  5. کاشفی

    جوش سُوگوارنِ حسین علیہ السلام سے خطاب - جوش ملیح آبادی

    ( 9 ) تُم سے کچھ کہنا ہے اب اے سوگوارانِ حسین علیہ السلام یاد بھی ہے تم کو تعلیمِ امامِ مشرقین؟ تاکُجا بھولے رہو گے غزوہء بدروحنین؟ کب تک آخر ذاکروں کے تاجرانہ شورشین؟ ذاکروں نے موت کے سانچے میں دل ڈھالے نہیں یہ شہیدِکربلا کے چاہنے والے نہیں کہہ چکا ہوں بار بار، اور اب بھی کہتا ہوں یہی...
  6. کاشفی

    جوش سُوگوارنِ حسین علیہ السلام سے خطاب - جوش ملیح آبادی

    ( 8 ) اے مُحیطِ کربلا! اے ارضِ بے آب و گیاہ جراتِ مردانہء شبیر علیہ السلام کی رہنا گواہ! حشر تک گونجے گا تجھ میں نعرہ ہائے لاالہ کج رہے گی فخر سے فرقِ رسالت پر کُلاہ یہ شہادت اک سبق ہے حق پرستی کے لیئے اک ستونِ روشنی ہے بحرِ ہستی کے لیئے (جاری ہے۔۔۔)
  7. کاشفی

    جوش سُوگوارنِ حسین علیہ السلام سے خطاب - جوش ملیح آبادی

    (7) آفرین چشم و چراغِ دُودمانِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آفرین صد آفرین و مرحبا صد مرحبا مرتبہ انسان کو تونے دوبالا کر دیا جان دے کر، اہلِ دل کو تو سبق یہ دے گیا کشتیء ایمان کو خونِ دل میں کھپنا چاہئے حق پہ جب آنچ آئے تو یوں جان دینا چاہئے (جاری ہے۔۔۔)
  8. کاشفی

    جوش سُوگوارنِ حسین علیہ السلام سے خطاب - جوش ملیح آبادی

    (6) ظُہر کے ہنگام، کچھ جھکنے لگا جب آفتاب ذوقِ طاعت نے دلِ مولیٰ میں کھایا پیچ و تاب آکے خیمے سے کسی نے دوڑ کر تھامی رکاب ہوگئی بزمِ رسالت میں امامت باریاب تشنہ لب ذرّوں پہ خُونِ مشکبو بہنے لگا خاک پر اسلام کے دل کا لَہُو بہنے لگا (جاری ہے۔۔۔)
  9. کاشفی

    جوش سُوگوارنِ حسین علیہ السلام سے خطاب - جوش ملیح آبادی

    (5) لو وہ مقتل کا سَماں ہے، وہ حریفوں کی قطار بہ رہی ہے نہر لو وہ سامنے بیگانہ وار وہ ہوا اسلام کا سرتاج مَرکب پر سَوار دھوپ میں وہ برق سی چمکی، وہ نکلی ذوالفقار آگئی رَن میں اجل، تیغ دو دَم تولے ہوئے جانبِ اعدا بڑھا دوزخ وہ منہ کھولے ہوئے دُور تک ہلنے لگی گھوڑوں کی ٹاپوں سے زمیں کوہ...
  10. کاشفی

    جوش سُوگوارنِ حسین علیہ السلام سے خطاب - جوش ملیح آبادی

    (4) لُو کے جھکّڑ چل رہے ہیں، غیظ میں ہے آفتاب سُرخ ذرّوں کا سمندر کھا رہا ہے پیچ و تاب تشنگی، گَرمی، تلاطُم، آگ، دہشت، اضطراب کیوں مسلمانو! یہ منزل، اور آلِ بُوتراب علیہ السلام کس خطا پر تم نے بدلے ان سے گن گن کے لیئے فاطمہ سلام اللہ علیہا نے ان کو پالا تھا اسی دن کے لیئے؟ (جاری ہے۔۔۔۔)
  11. کاشفی

    جوش سُوگوارنِ حسین علیہ السلام سے خطاب - جوش ملیح آبادی

    (3) ہوشیار، اے ساکت و خاموش کُوفے! ہوشیار آرہے ہیں دیکھ وہ اعدا قطار اندر قطار ہونے والی ہے کشاکش درمیانِ نور و نار اپنے وعدوں پر پہاڑوں کی طرح رہ استوار صبح قبضہ کر کے رہتی ہے اندھیری رات پر جو بہادر ہیں، اَڑے رہتے ہیں اپنی بات پر (جاری ہے۔۔۔۔)
  12. کاشفی

    جوش سُوگوارنِ حسین علیہ السلام سے خطاب - جوش ملیح آبادی

    (2) ہاں نگاہِ غور سے دیکھ اے گروہِ مومنیں! جارہا ہے کربلا خیرالبشر کا جانشیں آسماں ہے لرزہ بر اندام، جنبش میں زمیں فرق پر ہے سایہ افگن شہپرِ روح الامیں اے شگوفو،السَّلام، اے خفتہ کلیو الوداع اے مدینے کی نظر افروز گلیو الوداع (جاری ہے۔۔۔۔)
  13. کاشفی

    جوش سُوگوارنِ حسین علیہ السلام سے خطاب - جوش ملیح آبادی

    سُوگوارانِ حسین علیہ السلام سے خطاب (جوش ملیح آبادی) (1) اِنقلابِ تُندخُو جس وقت اُٹھائے گا نظر کَروٹیں لے گی زمیں، ہوگا فلک زیر وزبر کانپ کر ہونٹوں پر آجائے گی رُوحِ بحرو بر وقت کا پیرانہ سالی سے بھڑک اُٹھے گا سر موت کے سیلاب میں ہر خشک و تر بہہ جائے گا ہاں مگر نامِ حسین علیہ السلام ابن...
  14. کاشفی

    سید الشہداء حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ایک شعر

    ہوشیار، اے ساکت و خاموش کُوفے! ہوشیار آرہے ہیں دیکھ وہ اعدا قطار اندر قطار ہونے والی ہے کشاکش درمیانِ نور و نار اپنے وعدوں پر پہاڑوں کی طرح رہ استوار صبح قبضہ کر کے رہتی ہے اندھیری رات پر جو بہادر ہیں، اَڑے رہتے ہیں اپنی بات پر
  15. کاشفی

    سید الشہداء حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ایک شعر

    ہاں نگاہِ غور سے دیکھ اے گروہِ مومنیں! جارہا ہے کربلا خیرالبشر کا جانشیں آسماں ہے لرزہ بر اندام، جنبش میں زمیں فرق پر ہے سایہ افگن شہپرِ روح الامیں اے شگوفو،السَّلام، اے خفتہ کلیو الوداع اے مدینے کی نظر افروز گلیو الوداع
  16. کاشفی

    سید الشہداء حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ایک شعر

    کون؟ جو ہستی کے دھوکے میں نہ آیا، وہ حسین علیہ السلام سَر کٹا کر بھی نہ جس نے سر جھکایا ، وہ حسین علیہ السلام جس نے مر کر غیرتِ حق کو جِلایا، وہ حسین علیہ السلام موت کا منہ دیکھ کر جو مُسکرایا، وہ حسین علیہ السلام کانپتی ہے جس کی پیری کو جوانی دیکھ کر ہنس دیا جو تیغِ قاتل کی رَوانی دیکھ کر
  17. کاشفی

    سید الشہداء حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ایک شعر

    اِنقلابِ تُندخُو جس وقت اُٹھائے گا نظر کَروٹیں لے گی زمیں، ہوگا فلک زیر وزبر کانپ کر ہونٹوں پر آجائے گی رُوحِ بحرو بر وقت کا پیرانہ سالی سے بھڑک اُٹھے گا سر موت کے سیلاب میں ہر خشک و تر بہہ جائے گا ہاں مگر نامِ حسین علیہ السلام ابن علی علیہ السلام رہ جائے گا
Top