نتائج تلاش

  1. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    کبھی ضرورت پڑی جو میری ، خدا کے رستے میں جان دوں گا اسے ہی دل میں بٹھا لیا ہے ، اسے ہی اپنا بنا لیا ہے ... شعر دو لخت لگتا ہے۔ ربط کے لیے کچھ اس قسم کا ٹکڑا ہونا چاہیے کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے
  2. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    عبد الغفور کہا کریں اسے، اللہ کے نام کی توہین نہ ہو جائے غفور کہنے سے
  3. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    فوری طور پر تو یہی سمجھ نہ سکا کہ طاق میں کیسے بیٹھے ہوں گے وجی! پھر لگا کہ 'تاک' میں ہوں گے لیکن ط کو بھگتانے کے لیے طاق میں گھسنا پڑا
  4. الف عین

    تری منزل کا راہی ہے وہی جو دل سے عاری ہے!

    اگر بول چال کی زبان کو ہی معیار بنایا جائے تو ہند و پاک کے پچھتر فی صد عوام گجل کہتے ہیں غزل کو۔ اساتذہ نے نہ کہیں صَبَر استعمال کیا ہے اور نہ میّاں، مشدد میاں تو ہم ہندوستانی پہلی بار سن بلکہ پڑھ رہے ہیں۔ کیونکہ یہ لفظ ہی وزن میں نہیں تھا، اس لیے اس کے معنی پر غور ہی نہیں کیا گیا کہ الفاط بدلنے...
  5. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    ملے جو دنیا خدا بھلا کر یہی ہے سب سے بڑا خسارہ ...' ملے' تو قابل قبول ہے جہان سارا اگر جو چاہے وہ دے نہ پائے گا کچھ بھی تجھ کو یہ بات دل میں رہے تمہارے بغیر رب کے نہیں گزارا اس میں شتر گربہ بھی ہے جہان اور جہاں کا بار بار استعمال واقعی ناگوار لگ رہا ہے
  6. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    یہ بات تلخ ہے لیکن یہی حقیقت ہے نہ باپ بھائی نہ عورت بغیر پیسے کے ... عورت بمعنی بیوی عوامی بول چال میں درست مانا جا سکتا ہے لیکن ادب میں تو اسے بطور جنس ہی سمجھا جائے گا، اس شعر کو نکال ہی دو ادب سے دیکھ چکے ہم بھی گفتگو کر کے نہ کام آئی شرافت بغیر پیسے کے ... پہلا مصرع بھی 'کے' پر ختم ہو...
  7. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    شاعری شروع کر دی؟ میں نے فی البدیہہ مصرع نہیں کہا تھا، جمیل مظہری کی اس غزل کا تھا
  8. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    ہاں، ذکر اس کا اس سے بہتر ہے جو اس محفل میں ہے
  9. الف عین

    تری منزل کا راہی ہے وہی جو دل سے عاری ہے!

    ترے رستے میں ایک غم کیا کہوں وہ سو پہ بھاری ہے صبر کرتے گزارہ ہے مجھے تجھ سے جو یاری ہے ... پہلے مصرع میں 'اک غم' وزن میں آتا ہے دوسرے میں 'صبر' کا تلفظ غلط ہے 'شعر نہیں بن سکا، پانچ علیحدہ علیحدہ فقرے ہیں تری صحبت کو جو چاہوں تو خاموشی کی تلقین ہو غضب کیا ہے کہ لب سینے پہ اب تقریر ساری ہے ...
  10. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    ابھی دوسری لڑی میں محترمہ کا تعارف کروا چکا ہوں
  11. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    زندگی میں رونق اور الف بے کی لڑیوں میں زندگی کے لیے ثمرین کا کردار بہت ضروری ہے ورنہ ث بھگتانا مشکل ہو جاتا ہے نہ ہو اگر یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا
  12. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    سِدھارا، سین پر زیر کے ساتھ بالکل درست ہے بمعنی روانہ ہوا سُدھارا بمعنی اصلاح کی، سین پر پیش کے ساتھ ہے
  13. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    مقطع میں ہندوستان میں سیاست کے ہندتوا عناصر کی طرف اشارہ ہے، زعفرانی یا بھگوا رنگ اسی رجحان کا عکاس ہے
  14. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    خالی پیالے بھی لیتے آنا، یہاں دلیم یا حلیم کھانے والے بہت ہیں
  15. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    مزید..... جو آگ دوزخ کی جل رہی ہے، جو دیکھتے تو کیا نہ ڈرتے مگر ہے حکمت خدا کی اس میں،نظر سے سب کی چھپا دیا ہے کیا اور کِیا، پہلا لفظ سوالیہ جو 'کا' تقطیع ہو گا، فع کے وزن پر دوسرا، کرنے کا ماضی، اس کی ی نہیں گرائی جا سکتی، فعو کے وزن پر ہے مزید یہ کہ اس شعر میں 'چھپا دیا ہے' میں مذکر کا صیغہ...
  16. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    چلو کوئی بات نہیں، اب تو سیدھی ہو گئی لڑی
  17. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    حق کا درست تلفظ تشدید کے ساتھ ہے
  18. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    ہم تو نیب کو جانتے نہیں لیکن کیا کاف گاف کو بغیر مرچ مسالے کے کھا جانے سے بھی کوئی پکڑ نہیں ہوتی؟
  19. الف عین

    غزل - بند رکھنے لگا ہوں فون بہت - منیبؔ احمد

    اصلاح کی ضرورت تو نہیں لیکن زبردستی دو باتیں کہوں گا مطلع کے دوسرے مصرعے میں 'ہے' کی کمی محسوس ہوتی ہے فسون محاورہ نہیں، محض فسوں ہوتا ہے مگر قافیے کی مجبوری!
  20. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    ضرور تھے ڈاکٹر، مگر فلسفے کے
Top