مدّت ہوئی ہے پوری ، دنیا سے جا رہے ہیں
کاٹیں گے وہ ہی جا کر جو کچھ اُگا رہے ہیں
----------- پھر وہ ہی! اس کے علاوہ یہ خیال بھی اب آیا ہے کہ دوسرے مصرعے میں حال کا صیغہ درست نہیں، ظاہر ہے کہ یوں ہونا تھا کہ وہی کاٹیں گے جو بویا تھا!
خوشیاں تھیں چار دن کی دنیا میں ہم نے دیکھیں
دنیا پہ ہم بھی یارو...