نتائج تلاش

  1. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    دل کو کھویا ہے کل جہاں جا کر جی میں ہے آج جی بھی کھو آؤں (میر غلام حسن)
  2. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    میں حشر کو کیا روؤں کہ اُٹھ جانے سے تیرے برپا ہوئی اک مجھ پہ قیامت تو یہیں اور (میر غلام حسن)
  3. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    اس شوخ کے جانے سے عجب حال ہے میرا جیسے کوئی بھولا ہوا پھرتا ہے کچھ اپنا (میر غلام حسن)
  4. کاشفی

    آج دل بےقرار ہے کیا ہے - میر غلام حسن

    غزل (میر غلام حسن) آج دل بیقرار ہے کیا ہے درد ہے انتظار ہے کیا ہے جس سے جلتا ہے دل جگر وہ آہ شعلہ ہے یا شرار ہے کیا ہے یہ جو کھٹکے ہے دل میں کانٹا یاں مژہ ہے نوک خار ہے کیا ہے چشم بددور تیری آنکھوں میں نشہ ہے یا خمار ہے کیا ہے میرے ہی نام سے خدا جانے ننگ ہے اس کو عار ہے کیا ہے کیوں...
  5. کاشفی

    دل غم سے ترے لگا گئے ہم - میر غلام حسن

    میر حسن تعارفِ شاعر: میر غلام حسن نام، حسن تخلص۔ میر غلام حسین ضاحک کے بیٹے۔ ان کے باپ دادا ہرات کے رہنے والے تھے۔ میر حسن کے دادا امام ہروی نے زمانہ کے انقلاب کے ہاتھوں وطن چھوڑ کر پرانی دلّی بسائی۔ یہیں میر ضاحک پیدا ہوئے۔ میر حسن کا ابتدائی زمانہ یہیں بسر ہوا۔ بارہ برس کے سن میں باپ کے...
  6. کاشفی

    دل غم سے ترے لگا گئے ہم - میر غلام حسن

    غزل (میر غلام حسن) دل غم سے ترے لگا گئے ہم کس آگ سے گھر جلا گئے ہم ماتم کدہ جہاں میں چوں شمع رو رو کے جگر بہا گئے ہم مانندحباب اس جہاں میں کیا آئے تھے اور کیا گئے ہم کھویا گیا اس میں گو دل اپنا پر یار تجھے تو پا گئے ہم آتا ہے یہی تو ہم کو رونا یوں موت کا غم بھلا گئے ہم افسانہ سرگذشت...
  7. کاشفی

    انشا اللہ خان انشا جھوٹا نکلا قرار تیرا - انشا اللہ خاں انشا

    بہت شکریہ جناب محمد وارث صاحب اور فرخ منظور صاحب۔ خوش رہیں۔
  8. کاشفی

    جوش دُوربینیء و جوانی، یہ تماشا کیسا؟ - جوش ملیح آبادی

    بہت شکریہ جناب محمد وارث صاحب!
  9. کاشفی

    جوش آ، اور جہاں کو غرقِ لبِ نوش خند، کر - جوش ملیح آبادی

    بہت شکریہ جناب محمد وارث صاحب! خوش رہیں۔
  10. کاشفی

    جوش میں قُرباں اے مرے تُرکِ قبا پوش - جوش ملیح آبادی

    بہت شکریہ جناب محمد وارث صاحب!
  11. کاشفی

    اشعار - حروف تہجی کے لحاظ سے

    کیفیت چشم اُس کی مجھے یاد ہے سودا ساغر کو مرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں (سودا)
  12. کاشفی

    " عشق " پر اشعار

    عشق سے تو نہیں ہوں میں واقف دل کو شعلہ سا کچھ لپٹتا ہے غنچہ سمٹے تو سمٹے ممکن ہے دل جو بکھرے تو کب سنبھلتا ہے (سودا)
  13. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    عشق سے تو نہیں ہوں میں واقف دل کو شعلہ سا کچھ لپٹتا ہے غنچہ سمٹے تو سمٹے ممکن ہے دل جو بکھرے تو کب سنبھلتا ہے (سودا)
  14. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    بھر نظر تجھ کو نہ دیکھا کبھی ڈرتے ڈرتے حسرتیں جی کی رہیں جی ہی میں مرتے مرتے (سودا)
  15. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    جس روز کسی اور پہ بیداد کروگے یہ یاد رہے ہم کو بہت یاد کرو گے (سودا)
  16. کاشفی

    ‘زلف‘

    رُخ نہیں صبح سے کم، زلف نہیں رات سے کم اُس پری کا نہیں عالم بھی طلسمات سے کم (شاعر: مجھے معلوم نہیں)
  17. کاشفی

    اس طرح جی کہ بعد مرنے کے - یاد کوئی تو گاہ گاہ کرے

    اس طرح جی کہ بعد مرنے کے - یاد کوئی تو گاہ گاہ کرے
  18. کاشفی

    رئیس امروہوی رئیس امروہوی۔ غزل: خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم

    بہت عمدہ انتخاب ہے۔۔ بیحدشکریہ!
  19. کاشفی

    آج کا شعر - 5

    بچوں کو ماں کی گود بھی مکتب سے کم نہیں اِس مدرسے میں حاجتِ لوح و قلم نہیں (پنڈت برج نراین چکبست لکھنوی)
  20. کاشفی

    جو دل میں شعر آئے وہ لکھ دیجیے -- نیا سلسلہ

    اثر ہو سننے سے کانوں کو یا نہ ہو لیکن جو فرض تھا وہ ادا کر چکی زبان اپنا (پنڈت برج نراین چکبست لکھنوی)
Top