غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
ہمت کا ہارنا نہ مصیبت میں چاہیئے
تھوڑا سا حوصلہ بھی طبیعت میں چاہیئے
دل دو طرح کا تیری محبت میں چاہیئے
راحت میں ایک ، ایک مصیبت میں چاہیئے
آجائے راہ راست پہ کافر ترا مزاج
اک بندہء خدا تری خدمت میں چاہیئے
اپنا بھی کام نکلے وہ ناراض بھی نہ ہوں
ایسے مزے کی...
غزل
(داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
یہ بات بات میں کیا ناز کی نکلتی ہے
دبی دبی ترے لب سے ہنسی نکلتی ہے
ٹھہر ٹھہر کے جلا دل کو ایک بات نہ پھونک
کہ اس میں بوئے محبت ابھی نکلتی ہے
بجائے شکوہ بھی دیتا ہوں میں دعا اس کو
مری زباں سے کروں کیا وہی نکلتی ہے
ہزار بار جو مانگا کرو تو کیا حاصل
دعا وہی...
غزل
(داح دہلوی رحمتہ اللہ علیہ)
جانچ لو ہاتھ میں پہلے دل شیدا لے کر
نہیں پھرنے کا مری جاں یہ سودا لے کر
ناز ہوتا ہے اُنہیں مال پرایا لے کر
دُون کی لیتے ہیں میرا دل شیدا لے کر
دل کاسودا جو کرے تم سے وہ سودائی ہے
دام دیتے ہی نہیں مال پرایا لے کر
رکھ دیا ہاتھ مرے منہ پہ تب کافر نے
صبح...
دنیائے دنی کو نقشِ فانی سمجھو
روداد جہاں کو اک کہانی سمجھو
پر جب کرو آغاز کوئی کام بڑا
ہر سانس کو عمرِ جاودانی سمجھو
(مولانا الطاف حسین حالی رحمتہ اللہ علیہ)
ہندو سے لڑیں نہ گبر سے بیر کریں
شر سے بچیں اور شر کے عوض خیر کریں
جو کہتے ہیں یہ کہ ہے جہنم دنیا
وہ آئیں اور اس بہشت کی سیر کریں
(مولانا الطاف حسین حالی رحمتہ اللہ علیہ)
جب مایوسی دلوں پہ چھا جاتی ہے
دشمن سے بھی نام تیرا جپواتی ہے
ممکن ہے کہ سکھ میں بھول جائیں اطفال
لیکن انہیں دکھ میں ماں ہی یاد آتی ہے
(مولانا الطاف حسین حالی رحمتہ اللہ علیہ)
جب مایوسی دلوں پہ چھا جاتی ہے
دشمن سے بھی نام تیرا جپواتی ہے
ممکن ہے کہ سکھ میں بھول جائیں اطفال
لیکن انہیں دکھ میں ماں ہی یاد آتی ہے
(مولانا الطاف حسین حالی رحمتہ اللہ علیہ)
غزل
(مولانا الطاف حسین حالی)
جہاں میں حالی کسی پہ اپنے سوا بھروسہ نہ کیجئے گا
یہ بھید ہےاپنی زندگی کا بس اس کا چرچا نہ کیجئے گا
ہو لاکھ غیروں کا غیر کوئی نہ جانتا اس کو غیر ہرگز
جو اپنا سایہ بھی ہو تو اس کو تصور اپنا نہ کیجئے گا
اسی میں ہے خیر حضرت دل کہ یار بھولا ہوا ہے ہم کو
کرے وہ یاد،...
غزل
(مولانا الطاف حسین حالی)
کامل ہے جو ازل سے وہ ہے کمال تیرا
باقی ہے جو ابد تک وہ ہے جلال تیرا
ہے عارفوں کو حیرت اور منکروں کو سکتہ
ہر دل پہ چھا رہا ہے رعب جمال تیرا
چھوٹے ہوئے ہیں گو جی پر دل بندھے ہوئے ہیں
ملنے سے بھی سوا ہے چھٹنا محال تیرا
گو حکم تیرے لاکھوں یاں ٹالتے رہے ہیں
لیکن...
غزل
(امیر مینائی)
میری طرح نہ اک دن ابرِ بہار رویا
وہ ایک بار رویا میں لاکھ بار رویا
مجنوں سے میں نے پوچھا کل حال بیخودی کا
کچھ کہہ سکا نہ منہ سے، پر زار زار رویا
کیا بیکسی کا عالم میرے مزار پر ہے
جو آگیا وہ بن کر شمع مزار رویا
آواز دے رہے ہیں مقتل میں زخم بسمل
خنداں ہوا جو پہلے انجام...
غزل
(نواب سید محمد خاں، رند)
دل کو پھر کاکل میں الجھاتے ہیں ہم
سر پہ پھر روز سیہ لاتے ہیں ہم
اے اجل آچک خدا کے واسطے
زندگی سے اب تو گھبراتے ہیں ہم
کل کہہ آئے تھے نہ آوینگے کبھی
بن بلائے آج پھر جاتے ہیں ہم
ہم پہ بہتاں اور کی الفت کا ہے
لے ترے سر کی قسم کھاتے ہیں ہم
رند جب ملتے ہیں وہ...