یہ رنگ گلاب کی کلی کا
نقشہ ہے کسی کی کم سنی کا
منہ پھیر کے یوں چلی جوانی
یاد آگیا روٹھنا کسی کا
دیکھو نہ جلیل کو مٹاؤ
مٹ جائے گا نام عاشقی کا
(حافظ جلیل حسن جلیل )
ملیں کسی سے تو بدنام ہوں زمانے میں
ابھی گئے ہیں وہ مجھ کو سنا کے پردے میں
نہ مانگ زاہد ناداں ذرا سمجھ تو سہی
شکایتیں ہیں یہ کس کی دعا کے پردے میں
(مائل دہلوی)
ہر خاروخس ہے وجد میں، ہر سنگ و خشت مست
کیا مےکشوں نے آ کے کہا خانقاہ میں
آشفتہ خاطری وہ بلا ہے کہ شیفتہ
طاعت میں کچھ مزا ہے نہ لذت گناہ میں
(نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ)
ہر خاروخس ہے وجد میں، ہر سنگ و خشت مست
کیا مےکشوں نے آ کے کہا خانقاہ میں
آشفتہ خاطری وہ بلا ہے کہ شیفتہ
طاعت میں کچھ مزا ہے نہ لذت گناہ میں
(نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ)