یہی صورت پہلے بھی ممکن نہیں تھی؟
مجھ سے اگر تمہارا ہے پیار کا ارادہ
ملنا پڑے گا پھر تو معمول سے زیادہ
--------------------- درست
چڑھنے لگا ہے دونوں پر رنگ دوسرے کا
ملنے لگا ہے اب تو دونوں کا ہی لبادہ
--------------- درست
غربت نے آج میری مجھ کو کیا ہے رسوا
پوڈر ملا نہ اُس کو تو مل لیا لبادہ...
پہلے تقطیع کی بات کر دی تو یہ سمجھا کہ اسی میر کی زمین میں طبع آزمائی کی ہے اب غور کیا تو پایا کہ ردیف بدل کر لیا کر دی ہے!
درست ہے غزل، مفہوم کے اعتبار سے یہ شعر دیکھ لو
چوم لیا تصویر کو جب ہم دور سے ان کو چھو نہ سکے
اپنی محرومی کا ان سے ہم نے یوں انعام لیا
یہ محبوب سے انعام کی صورت ہے؟
تقطیع کی پریکٹس کرنا ہے تو میر کی یہی عزل لو
یعنی.. فعلن
رات.. فعل
بہت تی.. فعولن
جاگے.. فعلن
صبح.. فعل
ہوئی آ... فعولن
رام.. فعل
کیا.. فعو
یعنی یہ کہ یا تو مکمل دو بار فعلن ہو گا، یا ایک بار فعل اور اس کے بعد فعولن۔ اسے ساڑھے سات رکنی بحر کہا جاتا ہے، سات بار فعلن اور اس کے بعد فعل کا آدھا...
مطلع میں اے عنواں کی ے گرنا گراں گزرتا ہے
مری ہر مسرت کے عنواں....
ترے دم سے قائم ہے دل کی یہ رونق
لبوں پہ تبسم کے ساماں تو آ جا اکیا جا سکتا ہے
ترے دم سے قائم ہے دل کی یہ رونق
لبوں پہ تبسم کے ساماں تو آجا
... تبسم کی ہی کیا ضرورت ہے؟ اور جہاں پر آ سکے وہاں پر ہی استعمال بہتر ہے بہ نسبت پہ کے...
درست ہے غزل بس دو اشعار دیکھ لو پھر
میں ہوں شاہین ہے پرواز تخیّل میرا
قید مجھ کو کوئی صیاد نہیں کر سکتا
پہلا مصرع واضح نہیں
زندگی اس کی گناہوں میں گزر جاتی ہے
خود کو جو نفس سے آزاد نہیں کر سکتا
نفس سے آزاد یا نفس کی ہا و ہوس سے آزاد؟
واہ، اچھی کاوش ہے
تم مرے خیالوں کی جان بن کے رہتے ہو
اک ترا تصور ہی دل کو میرے دھڑکائے
شتر گربہ دور کر دیں کہ ایک ہی شعر میں تم اور تو دونوں سے خطاب ہے
ذہن الگ ہیں، دل نہیں ملتے، اب کہنا دشوار نہیں ہے
ہم نہیں کہتے آپ ہی کہہ دیں آپ کو ہم سے پیار نہیں ہے
... واضح نہیں ہوا، کہنا دشوار والا ٹکڑا ابلاغ میں مانع ہے
دل کی بات کوئی نہیں سنتا اس لیے ہم چپ چپ بیٹھے ہیں
ذہن کو تنہائی نہیں بھاتی، دل آدم بیزار نہیں ہے
... آدم بیزار درست ترکیب ہے، عظیم...