نتائج تلاش

  1. الف عین

    مجھ کو تو انتظار تمہارا ہے آج بھی------برائے اصلاح

    مجھ کو تو انتظار تمہارا ہے آج بھی دل میں مرے تو پیار تمہارا ہے آج بھی ------------- جس دن یقین ہو جائے گا کہ بھرتی کے الفاظ سے دامن بچانا شروع کر دیا ہے، اس دن خیالی پلاؤ سے میری طرف سے دعوت! میرا مشورہ... اس دل میں انتظار.... سینے میں میرے پیار.... 'اس' بھی اگرچہ بھرتی کا ہے لیکن سو فیصد نہیں...
  2. الف عین

    میرا دُکھا کے دل نہ پریشان کیجئے---برائے اصلاح

    اس کو نکال ہی دیں مجھ کو ملا رہے ہیں یوں غیروں کے ساتھ کیوں میری طرف تو خاص ہی میلان کیجئے ------------- مقطع میں میرے مشورے کو قبول نہ کرنے کی وجہ؟
  3. الف عین

    برائے اصلاح

    میرا اعتراض پہلے مصرع کا محاورے کے خلاف ہونے کا تھا، دوسرے مصرع پر نہیں
  4. الف عین

    برائے اصلاح

    چیرہ دستی کن معنوں میں استعمال کیا ہے؟ آشیاں بنانے کا اس سے ربط؟
  5. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    ٹال جاؤ میاں، یہاں تو بس یہ انصاف ہونا چاہیے کہ الف بے کی ترتیب قائم رہے
  6. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    خیریت سے تو ہیں نا سب یہاں، میں کل نہیں آ سکآ تھا
  7. الف عین

    برائے اصلاح

    یہ زخم زخم بدن ، تار تار ہو جائے لہو کشید کے ہم داستاں بناتے ہیں ... لہو کشید کر 'کے' درست محاورہ ہو گا جہاں خراج میسر ہو چیرہ دستی کا اسی دیار میں اب آشیاں بناتے ہیں .. یہ شعر واضح نہیں ہوا باقی اشعار درست ہیں
  8. الف عین

    اب کسی کی یاد میں آنسو بہانا سیکھ لو---برائے اصلاح

    اب کسی کی یاد میں آنسو بہانا سیکھ لو یا کسی کے غم میں تھوڑا مسکرانا سیکھ لو -------------- درست یہ امانت ہے خدا کی ،جان میری یا تری سامنے ہی اس خدا کے سر کٹانا سیکھ لو ------------ عظیم کی یہ بات درست تھی کہ جان کے ساتھ سر کٹانا اچھا ہے لیکن شعر تو بے ربط ہو گیا۔ کہنا تو یہ چاہیے کہ اس امانت...
  9. الف عین

    میرا دُکھا کے دل نہ پریشان کیجئے---برائے اصلاح

    میرا دُکھا کے دل نہ پریشان کیجئے مجھ کو دیا ہے درد تو درمان کیجئے -------------- درست بھولا نہیں ہوں پیار تمہارا میں آج بھی ایسا نہ میرے ساتھ مری جان کیجئے --------------یا مانوں گا حکم آج بھی فرمان کیجئے ----------- پہلا متبادل بہتر ہے جانا ہے میں نے دور سبھی چھوڑ چھاڑ کے آئے جو میرے کام وہ...
  10. الف عین

    بات ہوتی ہے دلوں میں ،جان لیتا ہے خدا--برائے اصلاح

    شروع کے اشعار درست ہیں اُس نے ہم کو دے دیا ہے مانگتے تھے جو وطن پھر بھی اُس سے دور جا کر ہم نے پائی ہے سزا --------------- دونوں مصرعوں میں tense مختلف ہیں، پہلے کا imperfect کو بھی past indefinite میں کر دو اس نے ہم کو دے دیا ہم مانگتے تھے جو وطن قوم کو جو لوٹتے تھے وہ پڑے ہیں جیل میں (ق)...
  11. الف عین

    غزل براٗٗئے ٓاصلاح

    حشو و زوائد کے لیے عام بول چال میں بھرتی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے جو مجھے زیادہ پسند ہے، یعنی جن الفاظ کے بغیر بھی بات مکمل لگے
  12. الف عین

    غزل بر ائے اصلاح

    ردیف قوافی متعین نہیں تین اشعار میں کنارے سہارے قوافی ہیں اور لگے ہوئے ردیف، لیکن مطلع سے جالے، تالے، چھالے قوافی ہو گئے ہیں مقطع میں گلے کا قافیہ مصرع کو وزن سے خارج کر رہا ہے، ل پر تشدید کے ساتھ آ سکتا ہے جو کوئی لفظ نہیں
  13. الف عین

    غزل براٗٗئے ٓاصلاح

    درست
  14. الف عین

    بات ہوتی ہے دلوں میں ،جان لیتا ہے خدا--برائے اصلاح

    قوم کو جو لوٹتے تھے وہ یہاں پر اب نہیں کیا یہ مطلب ہے کہ قوم کو جو لوٹتے تھے وہ یہاں سے جا چکے ؟
  15. الف عین

    برائے اصلاح

    تکنیکی طور پر درست ہی لگ رہی ہے نظم
  16. الف عین

    غزل ۔ زعمِ عہدِ سلف میں رکھا ہوا ۔ محمد احمدؔ

    واہ، اچھے اشعار نکالے ہیں۔ مگر اس شعر میں مَیں باندھا گیا ہے جب کہ ردیف میں مفتوح م نہیں اور ہُوں اِک طرف، میں رکھا ہوا
  17. الف عین

    شعر کی اصلاح مطلوب ہے

    درست لگتا ہے مگر دوسرے مصرع میں روانی کی کمی ہے ۔ الفاظ بدلنے سے بہتر ہو سکتا ہے مصرع
  18. الف عین

    اب کسی کی یاد میں آنسو بہانا سیکھ لو---برائے اصلاح

    یہ امانت ہے خدا کی ،جان میری یا تری سامنے ہی اس خدا کے سر جھکانا سیکھ لو شتر گربہ کے علاوہ بھی میرے خیال میں دو غلطیاں مزید ہیں دونوں مصرعوں میں 'خدا' کا لفظ دوسرے مصرع میں 'ہی' اور 'اس' بھرتی کے الفاظ ہیں
  19. الف عین

    غزل براٗٗئے ٓاصلاح

    بس ایک دو باتیں سب مشغلوں سے ہی دل بے زار ہو گیا ہے تم سے بھی گفتگواب دل کو روا نہیں ہے ... پہلا مصرع بھی ہے پر ختم ہوتا ہے جو ردیف بھی ہے، 'ہی' بھی بھرتی کا لگتا ہے بے زار ہو گیا ہے دل سارے مشغلوں سے بہتر ہو گا لیکن جو جی میں ہے وہ اب تک کہا نہیں ہے جو جی کے تنافر کی بات ہو چکی ہے لیکن اس کے...
  20. الف عین

    دل میں خیال یار کا رہنا تو چاہئے---برائے اصلاح

    دل میں خیالِ یار ہی رہنا تو چاہئے اشکوں کو اس کی یاد میں بہنا تو چاہئے --------------- پہلے مصرعے میں 'ہی' بھرتی کا ہے خیال یار کا' بھی تو کہا جا سکتا ہے، بغیر اضافت دنیا سے اب کرو گے نہیں پھر کبھی گلہ ملتے ہیں غم جو پیار میں سہنا تو چاہئے ------------ اگر یہ دوستوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے تو...
Top