نتائج تلاش

  1. الف عین

    اصلاحِ سخن : لہجے کو تیرے دیکھا یہ حاجت نہیں رہی

    محبت سناش؟ غالباً شناس کہنا چاہ رہے ہیں مطلع میں کس بات کی حاجت نہیں رہنے کی بات ہے؟ واضح نہیں آئے بہار اب ،یا نہ آئے یہ غم نہیں کیونکہ ہمیں بہار کی عادت نہیں رہی 'یا نہ آئے' میں یا کے الف کا اسقاط اچھا نہیں، اسے 'کہ نہ آئے' کیا جا سکتا ہے کیونکہ میں کہ کا 'کے' کی طرح تقطیع ہونا بھی اچھا نہیں...
  2. الف عین

    برائے اصلاح : سبھی جانتا ہوں یہ سمجھانا چھوڑو

    یہ چہرے سے پردہ ہٹا دو نہ صاحب خدا کے لیے اب یوں تڑپانا چھوڑو عظیم کو ٹھیک لگا لیکن مجھے نہیں۔ 'یہ چہرے' اچھا نہیں لگتا، اور 'نہ صاحب' سے مراد؟ دونوں مطلب نکل سکتے ہیں، مت ہٹاؤ اور ہٹاؤ۔ اگر مؤخر الذکر مراد ہے تو یوں بہتر ہو گا ہٹا دو نا اس رخ سے یہ پردہ صاحب یعنی یہاں 'نا' کا محل ہے 'نہ' کا...
  3. الف عین

    مجھے تو مار ڈالے گی شبِ ہجراں یہ تنہائی---برائے اصلاح

    مطلع میں ہی ہو' کے تنافر اور' تمہار' ایک ہی مقام سے بچنے کے لیے اگر تم لوٹ آؤ گے تو مٹ جائے گی تنہائی کیا جا سکتا ہے، ترمیم شدہ مصرعے رواں نہیں دوسرے اشعار میں بھی روانی کی کمی لگتی ہے، کہ ان سے بہتر پچھلے مصرعے ہی ہیں، صرف اغلاط دور کرنے کی ضرورت ہے
  4. الف عین

    اصلاحِ سخن :جس کو رنج والم نے گھیرا ہے

    جس 'کو' عذاب دینا درست ہے، جس 'پر' عذاب کرے درست ہو سکتا ہے
  5. الف عین

    غزل برائے اصلاح- تہِ دریا میں ہے طوفانِ قرار

    درست ہے غزل، بطور غزل بھی قبول کی جا سکتی ہے صرف یہ مصرع بحر سے خارج ہو گیا ہے برہمئ دودِ چراغاں سے ہوا اس شعر کا مفہوم بھی واضح نہیں ہوا
  6. الف عین

    غزل برائے اصلاح۔ رہِ وفا میں چراغِ ہوس جلاتے نہیں

    سیلاب نور کیسے آئے. بھی درست ہے ہجوم اشک والے شعر میں ہی' کا اضافہ عمدہ ہے ہوا کے جھونکے کی ے کا اسقاط اچھا نہیں لگتا
  7. الف عین

    برائے اصلاح

    نکالنا اور سنبھالنا قوافی غلط ہیں خون دے کر جگر کا گلشن کو ہر کلی کو نکھارنا ہے مجھے گلشن کو یا کلی کو؟ ، گلشن کی ہر کلی کہو خون دے کر جگر کا گلشن کی ہر کلی کو نکھارنا ہے مجھے مرے کاشر یہ میرا وعدہ ہے غاصبوں کو نکا لنا ہے مجھے .. کاشر؟ کشمیر مراد ہے؟ خود لڑوں گا یہ بھول جاو سبھی کہ کسی کو...
  8. الف عین

    روزمرہ کی باتیں اور کیفیات

    طبیعت تو الحمد للہ ٹھیک ہے، بس احتیاط کر رہا ہوں اور زیادہ ٹائپ نہیں کر رہا۔ ہاتھ کا درد تو ختم ہو گیا ہے
  9. الف عین

    برائے اصلاح

    بھگوان اور اشور تو ایک ہی بات ہے۔ کہیں کو کوئی جگہ سےتعلق ی کے ساتھ بھی سمجھ سکتا ہے جب کہ مراد ے کے ساتھ کہیں ہے۔ اسے یوں کہو اللہ کہتا ہے کوئی، اشور کوئی باقی اشعار درست لگ رہے ہیں
  10. الف عین

    برائے اصلاح : کیوں لڑنے سے پہلے خفا ہو گیا ہے

    مطلع یوں بہتر ہے تجھے یوں اچانک یہ کیا ہو گیا ہے کہ لڑنے.. الخ
  11. الف عین

    چھوٹی بحر میں کاوش۔ اصلاح کی منتظر

    عظیم سے متفق ہوں
  12. الف عین

    سورج کی طرح کوئی سلگنا بھی تو چاہے

    کمپائل کر کے ای بک بنا کر مجھے بھیج دیں بزم اردو لائبریری میں شامل کر دوں گا
  13. الف عین

    زیست پہ یہ کرم نہ کر

    اچھی غزل ہے رم والے شعر کی بہتری کا ایک مشورہ 'اے مضطرب غزالِ دل' بھی بہتر ہے
  14. الف عین

    نکالو نفرتیں دل سےمحبّت ڈالتے جاؤ----برائے اصلاح

    قوافی غلط ہیں اس غزل کے
  15. الف عین

    مرے ہاتھ سے تیری چھوٹی کلائی ---برائے اصلاح

    درست ہونے کے باوجود اچھی غزل نہیں کہی جا سکتی
  16. الف عین

    ی۔ ہ۔ و ۔۔ نئی لڑی نمبر 20

    نہیں، بس میں نے ہی ان لڑیوں میں اور اصلاح کی لڑیوں میں مراسلہ کرنے سے خود کو باز رکھا ہے
  17. الف عین

    ا۔ب۔پ ۔۔۔۔۔ کھیل نمبر 62

    کوئی گڑبڑ تو نہیں، بس اپنے ہاتھوں کو آرام دے رہا ہوں کہ ادھر درد رہنے لگا ہے دائیں ہاتھ میں
  18. الف عین

    ہمیں سر جھکانا نہ آیا کبھی بھی ------- برائے اصلاح

    آخر کے دونوں اشعار ٹھیک ہیں
  19. الف عین

    برائے اصلاح " ایک عالم ہے بے قراری کا"

    اسے کیا شکوہ غم گساری کا کی ترتیب الٹ دیں کیا اسے شکوہ.... تا دم آخر بہتر ہے لیکن قراری محض استعمال نہیں ہوتا، صرف بے قراری ہوتا ہے اور قرار
  20. الف عین

    ہمیں کیا خبر ہم کہاں جا رہے ہیں----برائے اصلاح

    زمین اچھی نہیں اور اکثر اشعار دو لخت ہیں، میرے خیال میں اس پر مزید محنت نہ کی جائے عظیم
Top