نتائج تلاش

  1. الف عین

    اصلاح : اسی کو عیاں اور نہاں دیکھتا ہوں

    یہی تو اصل میں تھا! پہلی بات مکمل مطلع اپنا نہیں بنایا جاتا، محض کسی مصرع پر گرہ لگائی جا سکتی ہے جسے کہتے ہیں اہلِ ظاہر تجلی ّ اسے میں بصورت بتاں دیکھتا ہوں ... درست کبھی تھا جو دل شادو فرحا ں جنوں میں اسی کو میں اب بے کراں دیکھتا ہوں .. بے کراں اور شاد و فرحاں میں تضاد تو نہیں ہے، اگر...
  2. الف عین

    ترے غم نے بخشی مجھے روشنی ہے---برائے اصلاح

    ترے غم نے بخشی مجھے روشنی ہے اسی سے مرے دل کی محفل سجی ہے ------------ پہلے مصرع میں روانی کی کمی ہے روشنی سے محفل سجتی ہے؟ ترا غم سلامت رہے دل میں میرے زمانے کا ہر غم ہوا اجنبی ہے ---------------- پہلے مصرع پر داد بنتی ہے لیکن دوسرے سے ربط مفقود ہے جدائی میں تیری اداسی ہے چھائی مری انجمن میں...
  3. الف عین

    جو میرا ہمسفر ہے وہ ہم نوا نہیں ہے-----برائے اصلاح

    پہلا مطلع دو لخت لگتا ہے اب بھی۔ اس کے علاوہ میرا 'مر' تقطیع ہوتا ہے، اسے نکال ہی دیں فائنل کرنے میں چیک نہیں کیا گیا ہے کہ پرانا مصرع اب بھی نظر آ رہا ہے دل کو لگا لیا ہے پر دیس جا کے اس نے مجھ کو بھلا دیا ہے.... درست کیا جا چکا تھا! اچھی طرح چیک کر کے پوسٹ کریں
  4. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    صبح سے شام کریں گے کب تک ایک ہی کام کریں گے کب تک .. کیا کام؟ واضح نہیں بے دلی یہ ہی فقط بتلا دے آج آرام کریں گے کب تک ... درست بارہاں تم سے توقع کرکے خود کو ناکام کریں گے کب تک ... پہلا لفظ 'بارہا' ہے تو درست مصرع ہے، بارہاں سے سمجھ میں نہیں آیا شعر البتہ دو لخت لگتا ہے یہ اداسی میں...
  5. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    ارماں استعمال کیا جا سکتا ہے، سوئے ارماں بھی درست ہی ہے۔ مطلع درست ہے دوسرے شعر میں چپکے چپکے استعمال کریں، شعر بہتر ہو جائے گا
  6. الف عین

    جسے چاہتا ہوں وہ دے دے دکھائی-----برائے اصلاح

    یہ 'دے دے دکھائی' سے کیا مطلب ہے؟ عظیم نے سمجھ لیا ہے تو شاید مغربی پنجاب میں محاورہ ہو
  7. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    مطلع اور تیسرا شعر وزن میں درست نہیں۔ بہتے ہیں اگر اشک تو بہنے سے نہ روکو دو چار سے یہ خالی سمندر نہیں ہوتا یہ وزن درست ہے لیکن مفہوم شاید 'سمندر خالی' سے واضح ہوتا ہے، 'خالی سمندر' سے بے معنی ہو جاتا ہے شاہوں کی طرح جیتا قلندر نہیں ہوتا سمجھ نہیں سکا
  8. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    تیسرے اور پانچویں مصرعوں میں بحر کا کوئی مسئلہ نہیں
  9. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    کام سے گھر آتے آتے ہمیں اکثر دیر ہو جاتی ہے در اصل مسئلہ یہ ہے کہ 'ہوجاتی' محض 'ہجاتی' تقطیع ہوتا ہے اس لیے غلط ہے 'ہو جاتی ہے دیر' بھی درست ہو گا کہ آخر میں فعل بھی آ سکتا ہے
  10. الف عین

    بہت ہی خستہ ہے حال تیرا----برائے اصلاح

    اگر غریبوں پہ رحم کرتے ... حال تیرا شتر گربہ ہے، رحم 'کرتے' میں فاعل 'تم' پوشیدہ ہے رحم کرتا کیا جا سکتا ہے
  11. الف عین

    زیست پہ یہ کرم نہ کر

    اے مضطرب.. مفتعلن غزالِ دل... مفاعلن
  12. الف عین

    غزل برائے اصلاح

    مطلع کے علاوہ دونوں مصرعوں کی بحر بدل گئی ہے۔ یعنی آخری رکن پہلے میں فعولن اور دوسرے میں فعول ہے۔ عظیم کی نظر نہیں پڑی اس طرف شاید
  13. الف عین

    غزل براٗٗئے اصلاح

    حیرت ہے بن تمھارے دن بھی وہی ہے شب بھی میں تو یہ سوچتا تھا زندہ نہیں رہوں گا کی ایک بہتر صورت دن بھی اسی طرح ہیں، راتیں وہی ہیں اب بھی میں سوچتا تھا تم بن زندہ نہیں رہوں گا
  14. الف عین

    تری نظروں کی مستی نے مجھے سب کچھ بھلایا ہے---برائے اصلاح

    مرا محبوب روٹھا ہے کبھی ملنے نہیں آتا شکایت تھی نہ شکوہ تھا مجھے پھر بھی بھلایا ہے کس کو شکوہ شکایت تھی؟ عاشق کو یا معشوق کو؟ واضح نہیں ہوتا بھلایا بھی اچھا نہیں لگتا، بھلا دیا ہے درست ہوتا
  15. الف عین

    الحمد للہ

    الحمد للہ
  16. الف عین

    تری نظروں کی مستی نے مجھے سب کچھ بھلایا ہے---برائے اصلاح

    مجھے محسوس ہوتا ہے کہ کچھ من میں سمایا ہے کس کے من میں سمایا ہے؟ یہ واضح نہیں ہو سکا مجھے کیوں داد دیتے ہو میں اک جاہل نکمّا تھا ماضی کا صیغہ کیوں؟ نکما ہوں بہتر ہو گا. یہ دو باتیں مزید
  17. الف عین

    خونِ ناحق بہہ رہا ہے وادیِ کشمیر میں----برائے اصلاح

    حل نہیں ہے بات کوئی دشمنوں کے ساتھ ہو مسئلے کا حل فقط ہے اب تری شمشیر میں درست تو ہے لیکن تری شمشیر؟ کس سے تخاطب ہے؟ میرے خیال میں بغیر تخاطب کے بہتر ہو سکتا ہے مسئلے کا حل بچا ہے اب فقط شمشیر میں
  18. الف عین

    سارا جہاں دیکھا مگر کوئی کہیں تجھ سا نہیں برائے اصلاح

    مطلع میں یہ میرے دل کو ہے یقیں کا سامنے کا فقرہ نہیں سوجھا! لیکن کوئی نہیں ہے ہی نہیں کا ٹکڑا بھی اچھا نہیں لگتا اس کے سوا کوئی نہیں کیا جا سکتا ہے محبوب مجھ کو مل گیا میں تھک گیا جب ڈھونڈ کر مجھ سے کہاں وہ دور تھا دل میں مرے وہ تھا مکیں ------------------ محبوب لانا ضروری ہے کیا؟ ہر شعر میں...
  19. الف عین

    برائے اصلاح : اے گل بدن اے نازنیں دیکھا نہیں تجھ سا کہیں

    کتنا ملا تم کو سکوں بیمارِ دل سے پو چھئے پاکرتمہیں خنداں جبیں دیکھا نہیں تجھ سا کہیں شتر گربہ بھی ہے پوچھیے. تم، اور ردیف تو
  20. الف عین

    قطعہ برائے اصلاح

    ساتھیو تخاطبی لفظ ہے، جب کہ ساتھیوں جمع کا لفظ ساتھیو! قدم بڑھاؤ ساتھیوں نے قدم بڑھائے اب واضح ہوا نا!
Top