نتائج تلاش

  1. الف عین

    غزل برائے اصلاح : ہم محبت سے انجاں تھے

    ویسے گھائل اور پائل کی یہ املا اور تلفظ پر مجھے ذاتی طور پر اعتراض ہے۔ گھایل اور پایل زیادہ درست ہیں اور ان کی ی پر زبر ہے، زیر نہیں۔ اس صورت میں قافیہ پر بھی سوال اٹھتا ہے
  2. الف عین

    غزل برائے اصلاح : ہم محبت سے انجاں تھے

    جو بن چوٹ کے ہو گئے گھائل کیسا متبادل ہے؟
  3. الف عین

    تری معصوم صورت کو نگاہوں میں بسایا ہے--برائے اصلاح

    خدا کا شکر ہے اس نے مجھے یہ دن دکھایا ہے بہتر ہو گا مطلع کا دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے، دو لخت اب بھی ہے
  4. الف عین

    جانا تھا مجھ سے دور تو آئے قریب کیوں---برائے اصلاح

    جانا تھا مجھ سے دور تو آئے قریب کیوں آتا ہے تیرے پاس یہ میرا رقیب کیوں ----------------- دو لخت دولت سمٹ گئی ہے امیروں کے پاس سب پِستے ہیں اس جہان میں سارے غریب کیوں ---------------- پاس سب؟ مل کر رہے گا مجھ کو جو میرا نصیب ہے مجھ سے ہے دور آج بھی میرا حبیب کیوں --------------- دو لخت دل...
  5. الف عین

    برائے اصلاح

    چاروں شعروں میں ربط تو ضرور ہے لیکن پھر آدھی ہی غزل بچ جائے گی! قطرے کی جگہ بوند استعمال کیا جا سکتا ہے
  6. الف عین

    تری معصوم صورت کو نگاہوں میں بسایا ہے--برائے اصلاح

    کیا رب نے مقدّر میں ، مبارک دن یہ آیا ہے ----------- اب بھی بے معنی لگتا ہے
  7. الف عین

    جو میرا ہمسفر ہے وہ ہم نوا نہیں ہے-----برائے اصلاح

    یہ دو اشعار عظیم سے صرف نظر ہو گئے ہیں دل کو لگا لیا ہے پر دیس جا کے اس نے رہتا ہے دل میں ہر دم جیسے گیا نہیں ہے ---------- شاید یہ مراد ہو کہ پردیس جا کر محبوب نے 'کسی اور سے' دل لگا لیا ہو! لیکن دوسرے مصرع سے ربط نہیں بنتا۔ اس مجرد مصرع میں بھی 'اب بھی' کے اضافے کی ضرورت ہے آساں نہیں ہے...
  8. الف عین

    اوپن پیڈ میں شامل صوتی اردو کی میپنگ!

    دوسرے الفاظ میں سپیس ایک الگ کیریکٹر ہے اور شفٹ سپیس سے پیدا ہونے والا کیریکٹر زونج (ZWNJ) ایک الگ ہی کیریکٹر
  9. الف عین

    اوپن پیڈ میں شامل صوتی اردو کی میپنگ!

    جب آپ دو الفاظ کے درمیان سپیس والا وقفہ قبول نہ کریں۔ مثلاً 'بے' لاحقے کے الفاظ ۔ بے چین، بے رحم وغیرہ میں 'بے' کے بعد، 'غیر' لاحقے کے الفاظ جیسے غیر مسلم، غیر مرد، ان میں بے کی ے اور غیر کی ر یوں بھی ما بعد کے حروف سے ملتی نہیں ہے لیکن مل سکنے والے حروف کے درمیان اسے استعمال کرنے سے یہ الگ الگ...
  10. الف عین

    قطعہ برائے اصلاح

    نشہ کے درست تلفظ میں ش پر تشدید ہے۔ خیر، یہ چل سکتا ہے۔ مگر مجھے یہ دو الگ الگ اشعار محسوس ہو رہے ہیں، درمیانی ربط کا پتہ نہیں چلتا
  11. الف عین

    بغرض اصلاح: ’’مرادل جلاؤ ، یہ مرضی ہے تیری‘‘

    میرے خیال میں ردیف 'یہ مرضی ہے تیری' ہی بہتر ہے، ہے مرضی تمہاری' ہر جگہ پسندیدہ نہیں۔ عظیم کا صائب مشورہ ہے کہ قافیہ بتائے، جلانے وغیرہ. کر دیا جائے پہلے شعر میں مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ آپشن کا سوال نہیں ہے، محض یہی کہا جا رہا ہے کہ تمہاری مرضی ہے تو دل جلاؤ، مجھے اعتراض نہیں۔
  12. الف عین

    وہ کشمیر ہوں میں !

    نہیں میاں پسند نہیں آئی.۔ بھرتی کے الفاظ کی بھرمار ہے۔ الہی خدایا کی بہتات بھی اچھی نہیں لگتی۔ اسے خود ہی روائز کریں پہلے
  13. الف عین

    جو مسائل حل طلب ہیں ان میں اک کشمیر ہے--برائے اصلاح

    بد سلوقی کر رہا ہے عورتوں کے ساتھ جو اس کو انساں سمجھتے ہیں ،جو اک خنزیر ہے ---------- بد سلوقی یا سلوکی؟ دوسرا مصرع بحر سے خارج بے بسی کی داستاں ہیں لوگ یہ کشمیر کے ان کی حالت ظلمتوں کی بولتی تصویر ہے ------- ظلم اور ظلمت الگ الگ الفاظ ہیں باقی اشعار ٹھیک ہیں
  14. الف عین

    برائے اصلاح : ہماری گلی میں وہ صورت نہیں ہے

    پہلے دونوں اشعار درست ہیں ہو جائے آسان دم کا نکلنا وہ کہہ دیں کے ہم سے محبت نہیں .. سمجھ نہیں سکا، وزن میں بھی پہلا مصرع جو سے شروع کرنے پر درست ہو گا، دوسرے میں کے ہو یا کہ، بات مکمل نہیں بڑے آدمی ہم بھی بن جاتے لیکن ہمیں تیرے غم سے ہی فرصت نہیں ہے .. ٹھیک جو جنت میں بھی گر وہ ملنے نہ آئے...
  15. الف عین

    تاریک دیاروں میں اُجالے کا پتہ ہیں

    قافیہ ہو یا ردیف، 'ہیں'، فعل میں ہ مفتوح ہے، نگاہیں کا ہیں مفتوح نہیں۔ سادہ سی بات ہے اس پر اتنی بحث کیوں؟
  16. الف عین

    برائے اصلاح

    پہلے تینوں آشعار درست لگ رہے ہیں جو ہیں ہوس پرست در-حسن چھوڑ دیں آساں نہیں ہے عشق یہ تو باب اور ہے ...' یہ تو باب' صوتی طور پر بھی اور گرامر کی رو سے بھی اچھا نہیں ملتا نہیں سکون مجھے ایک بھی گھڑی لگتا ہے میرے پاس دل -بے تاب اور ہے ... پہلا مصرع ۔ ایک گھڑی بھی کا محل ہے، ایک پل کو بھی کیا جا...
  17. الف عین

    برائے اصلاح

    نا ہے تو بے معنی ہے۔ ہے نا! استعمال ہوتا ہے لیکن اس سے اشعار کا مطلب سمجھ میں نہیں آتا
Top