صاحب ، ٹھیک ہے آپ کو ذپ میں بتا دیا جائے گا، آپ جائیں گے ویڈیو بنائیں گے ۔ اور بس ۔۔
ویسے ایسے ہزاروں کلیو کراچی کی گلیوں میں آپ کو مل جائیں گے جو گواہی دیں گے ۔ میڈیا سے تعلق ہے تو چھان پھٹک کرلیں ، میری خبر جھوٹی بھی ہوسکتی ہے۔ :grin:
صاحب آپ شاید اسے ذاتی حملہ تصور فرمارہے ہیں،گھروں میں کام کرنے والی خواتین بچیوں پر جبراَ جسمانی اور جنسی تشدد کی ہولناک خبروں پر جرائد و رسائل ، ٹی وی اس صورتحال پر بھرے پڑے ہیں رجوع کیجے ۔ ( میرا ذاتی مشاہد الگ ہے )
احمد بھیا رسید حاضر ہے ، کلام پر تفصیلی بات بعد میں ہوگی انشا اللہ فی الوقت یہ کہ ’’ بادِ چنچل ‘‘ کی ترکیب جائز نہیں ، چنچل سنسکرت زبان سے اردو میں اصل معنی اور اصل حالت کے ساتھ عربی رسم الخط میں بطور صفت مستعمل ہے۔ 1564ء کو "دیوان حسن شوقی" میں مستعمل ملتا ہے۔ ، امید ہے آپ اس کا کچھ حل نکال...
جی صاحب یہ میر ی ذاتی رائے جو میں نے دیکھا کہ عورت ڈھور ڈنگروں کی طرح کام کرتی ہے، ذرا ذرا سی بات پر تشدد کا نشانہ بنا یا جاتا ہے کاروکاری ستی ونی یہ سب سندھ میں ہوتاہے ( باقی علاقے اس وقت موضوع نہیں) ، وڈیروں کی اوطاقوں کی زینت جبراً بنائی جاتی ہے تو عورت، کسی پنچائت کا فیصلہ ہوتا عورت کی...
غزل
زندگی زرد زرد چہروں میں
بھیک ڈالی گئی ہے کاسوں میں
ہم سے کیا پوچھتے ہو رنگِ جہاں
ہم تو زندوں میں ہیں نہ مردوں میں
سوئے ہوتے ہیں اپنے گھر میں ہم
پائے جاتے ہیں ان کی گلیوں میں
اب کتابوں میں بھی نہیں ملتا
پیار ہوتا تھا پہلے لوگو ں میں
چھان دیکھی ہے مشرقین کی خاک
آن بیٹھا...
صاحب اس قدر مزیدار لطیفے پراہماری روح پھڑ ک اٹھی سو ، عرض کیا ہے ۔ ۔ ۔
کوئی مرغیوں کی رانیں،کوئی پانچ چھ پراٹھے
ذرا کھانے کو تو لاؤ مرا دل دکھا ہوا ہے
نہیں کھایا چار دن سے ، مجھے رنج اس قدر ہے
ذرا یہ خبر بناؤ مرا دل دکھا ہوا ہے
جیا راؤ سے معذرت کے ساتھ