غزل
محمد خلیل الرحمٰن
(محترمہ شبنم شکیل سے معذرت کے ساتھ)
ماضی مستقبل ہوجائے، مستقبل ماضی
شبنم کی پھر غزل کے نکلیں کیسے کیسے رنگ
جلتے ہونٹ برستی آنکھیں، تانبے جیسا رنگ
برسوں بعد جو مجھ کو دیکھا، وہ بھی رہ گیا دنگ
(سوکھے ہونٹ، سلگتی آنکھیں، سرسوں جیسا رنگ
برسوں بعد وہ مجھ کو دیکھ کے رہ جائے گا...