غیر طعنے بھی دے تم کو مدحت لگے
شکر بھی ہم کریں تو شکا یت لگے
.... ٹھیک
سر بچا لائے ہم کوئے دلدار سے
سر کٹے پر نہ سر پر یہ تہمت لگے
... ایک طرح سے دو لخت ہے کہ دونوں مصرعوں میں الگ الگ صیغے ہیں۔ پہلے مصرع میں عام ماضی لیکن دوسرے میں تمنائی
دوسرا مصرع 'پر نہ سر پر' کی وجہ سے عدم روانی کا شکار...