نتائج تلاش

  1. الف عین

    تُو ہی خدا ہے میرا دیتا ہے دل گواہی----حمد برائے اصلاح

    رہنا نہیں ہمیشہ آئے ہیں چار دن کو فاعل تو اب بھی واضح نہیں ہوا رہنا نہیں جہاں میں، ہم چار دن کے مہماں ہم سب فدا.... یہ فدا میری ٹائپو تھی، گدا ہی درست ہے تیری طلب ہے مجھ کو تیری مجھے ضرورت میں مانگتا ہوں تجھ سے تیری رضا الٰہی --------- طلب اور ضرورت میں بھی وہی بات ہے اور دوسرے مصرعے میں...
  2. الف عین

    برائے اصلاح - عجب ہے

    نفی کا درست تلفظ نظم کیا گیا ہے لیکن منفی سوچ زیادہ بہتر بیانیہ محسوس ہوا اس لئے اسے پسند کیا۔
  3. الف عین

    تُو ہی خدا ہے میرا دیتا ہے دل گواہی----حمد برائے اصلاح

    تُو ہی خدا ہے میرا دیتا ہے دل گواہی سارے جہاں پہ تیری دِکھتی ہے بادشاہی ------------------ دکھتی کے بارے میں خلیل کہہ چکے ہیں ہر اک جگہ پہ دیکھا یا رب نشان تیرا جس کو نظر نہ آئے ، اس کی ہے کم نگاہی -------------- نشان یا نشانیاں، یہاں نشانی کا محل ہے تیری نشانیاں ہی ہر سو دکھائی دی ہیں ایک...
  4. الف عین

    ہوئی جب سے امّت ہے یوں پارا پارا---برائے اصلاح

    خدا سے ہمارا تعلّق ہے چھوٹا یہ دوری ہے جس نے کیا بے سہارا یہ تو میں سمجھ نہیں سکا بہر حال اسے نکال دیں
  5. الف عین

    برائے اصلاح - عجب ہے

    مطلع درست ہو گیا کیے جاتے رہو سب کو یونہی رد اگر.... بہتر ہے تری آواز اور میری خموشی لو، یہ بھی گفتگو کا ایک ڈھب ہے... میرا مشورہ منفی والا شعر بہتر لگ رہا ہے باقی اشعار ٹھیک ہو گئے ہیں
  6. الف عین

    اساتذہ کرام سے اِصلاح کی درخواست ہے (شکیل احمد خان)

    کانوں میں گونجتی تری آواز کیوں رہے پردوں میں ذوقِ دعوتِ شیراز کیوں رہے۔۔یا۔۔پردے میں اوردعوتِ۔۔یا ۔۔پردے میں دورِ دعوت ِ۔۔الخ؟ .... روانی کے حساب سے تو پہلا متبادل ہی بہتر ہے، اگرچہ مفہوم میری سمجھ میں نہیں آیا شکوہ فلک سے ہم کو یہی تھا کہ یہ اُفق۔۔یا ۔۔وہ اُفق؟ اِن حسرتوں کے خون کا غماز کیوں...
  7. الف عین

    برائے اصلاح

    تیغ جوں میرا ستمگرکھینچے آسماں آہیں آہ پر کھینچے .. پہلا مصرع بحر سے خارج ہے ستم گر فعولن ہوتا ہے، فاعلن نہیں دوسرا مصرع واضح نہیں قینچیاں دےدو، یہ نہ ہوصیّاد جھنجلاہٹ میں بال وپر''کھینچے'' جھنجھلاہٹ میں میرے خیال میں دوسرا جھ، یا ج ساکن ہے، یہاں متحرک لگ رہا ہے
  8. الف عین

    ہوئی جب سے امّت ہے یوں پارا پارا---برائے اصلاح

    گروہوں میں بٹ کر ہوئے پارا پارا اُٹھا رعب دنیا سے سارا ہمارا -------- یا نہیں آج پہلے سا وہ بھائی چارہ گیا رعب دنیا پہ جو تھا ہمارا ----------- پہلا متبادل اچھا ہے اور درست ہوئے دور رب سے خطا کم نہیں ہے اسی نے کیا ہے ہمیں بے سہارا -------- دور رب کا تنافر تو دور نہیں ہوا! فاعل اب بھی واضح...
  9. الف عین

    ہوئی جب سے امّت ہے یوں پارا پارا---برائے اصلاح

    پہلے تصحیح، میں نے لکھا تھا "سکھاتے تھے دنیا کو ہم سحر خیزی ہوا آج آرام ہم کو ہے پیارا --------- سحر بمعنی جادو؟ جس طرح تلفظ یو رہا ہے وہ تو جادو کے ہی نعنی میں ہے، بمعنی صبح ح مفتوح ہے، دوسرا مصرع ویسا ہی روانی کے لیے رو رہا ہے" کہنا یہ تھا کہ سحر بمعنی صبح میں ح مفتوح ہے، کہیں یہ مراد نہ لے...
  10. الف عین

    غزل برائے اصلاح: جانے میں اعتماد کے کس مرحلے میں تھا

    تُو شاد ہے کہ گِر گیا میرا تمام گھر لگتا ہے تیرا ہاتھ بھی اِس زلزلے میں تھا ... پہلا مصرع درست تو ہے بس روانی ذرا کمزور ہے، گر گیا کی جگہ 'ٹوٹ گیا' کہیں تو؟ تمام گھر کو بھی بدل کر 'گھر تمام' میں دوں اُسے شکست مگر دُکھ اُسے نہ ہو اک مخمصہ عجیب مرے مسئلے میں تھا تکنیکی طور پر درست ہو گیا ہے لیکن...
  11. الف عین

    مجھے تم نہ سمجھو غریب الوطن ہوں----برائے اصلاح

    مفہوم تو اب بھی واضح نہیں ہو رہا اگن فلمی گیتوں کی زبان ہے، اگنی کا یہ دیہاتی روپ ہے، اردو یا ہندوستانی نہیں۔
  12. الف عین

    اساتذہ کرام سے اِصلاح کی درخواست ہے (شکیل احمد خان)

    میں روا روی میں 'کہ کیا کہہ رہے' پڑھ گیا تھا اور سوچا تھا کہ تنافر کا بھی لکھوں گا، لیکن اب پتہ چلا کہ 'کہ' میری طبیعت کی موزونیت کی دین تھا!
  13. الف عین

    اساتذہ کرام سے اِصلاح کی درخواست ہے (شکیل احمد خان)

    نئے مطلع میں بے آواز کی ے کا اسقاط درست نہیں
  14. الف عین

    برائے اصلاح - عجب ہے

    میرا تو اصول یہی ہے کہ اغلاط کی نشان دہی کر دیتا ہوں، اگر کطھی ایک آدھ لفظ کی الت پھیر سے درست ہوتا نظر آئے تو مشورہ دے دیتا ہوں ورنہ شاعر پر ہی چھوڑ دیتا ہوں کہ وہ خود ہی غور کرے گریزاں روشنی سے ہو، عجب ہے سحر ہو گی تو سمجھو گے کہ شب ہے ... درست کھڑے اور زمیں جھٹلا رہے ہو یقیناً بد گمانی ہی...
  15. الف عین

    مجھے تم نہ سمجھو غریب الوطن ہوں----برائے اصلاح

    راحل نے بھی روائزڈ غزل نہیں دیکھی ہے جو میں نے چھوڑ دی تھی ان کے لئے! مجھے تم نہ سمجھو غریب الوطن ہوں جہاں بیٹھ جاؤں میں جانِ چمن ہوں ------------ مفہوم اب بھی واضح نہیں مجھے دوسروں کی ضرورت نہیں ہے میں تنہائی میں اپنی رہتا مگن ہوں ----------- درست میں جاتا نہیں ہوں کہیں خود سے چل کر کہ آتی...
  16. الف عین

    اساتذہ کرام سے اِصلاح کی درخواست ہے (شکیل احمد خان)

    پہلا مصرع جو مقطع میں بھی دہرایا گیا ہے، شاید طرحی مصرع تھا، اس کی نشان دہی کی ضرورت ہے لیکن یہ دہرایا جانا اچھا نہیں لگتا۔ بہر حال کانوں میں گونجتی تری آواز کیوں رہے تارِ نفس پہ ضرب سے دل باز کیوں رہے ... مفہوم واضح نہیں ہوا نالے گلوں کے آگے تھے بلبل کے بے اثر حیرت ہے پھر وہ گوش بر آواز...
  17. الف عین

    ہوئی جب سے امّت ہے یوں پارا پارا---برائے اصلاح

    ہوئی جب سے امّت ہے یوں پارا پارا اُٹھا رعب دنیا سے سارا ہمارا -------- پہلا مصرع روانی چاہتا ہے ہوئے دور رب سے خطا کم نہیں ہے جو یہ ساتھ چھوٹا ہوئے بے سہارا ----------- کون؟ فاعل کا نام و نشان نہیں، دور رب میں تنافر بھی ہے کبھی راج اپنا تھا آدھے جہاں پر مگر آج کھاتے ہیں لے کر ادھارا...
  18. الف عین

    غزل برائے اصلاح: جانے میں اعتماد کے کس مرحلے میں تھا

    اب کافی حد تک درست ہو گئی ہے غزل، بس مسئلہ مجھے انہیں شعروں میں لگ رہا ہے جن کو گرامر کے خلاف کہہ چکا ہوں
  19. الف عین

    مجھے تم نہ سمجھو غریب الوطن ہوں----برائے اصلاح

    تنافر ہے اس میں لیکن کسی نے ردیف ہی ایسی مقرر کی ہے۔۔ اگر ایسا ہی کسی جگہ طرحی مصرع دیا گیا ہے تو ظاہر ہے کہ اسی پر غزل کہنی ہو گی۔ ایسی کوئی مجبوری نہ ہو اور الفاظ بدلے جا سکیں تو ضروع بدل دینے چاہئیں
  20. الف عین

    محبّت نہ دنیا سے معدوم ہو گی------برائے اصلاح

    مزید یہ کہ.... برائی کے زمرے میں آئیں گی باتیں .. اب بھی غلط ہے، 'آئےں' جو باتیں، تمنائی کے ساتھ درست ہے، اور 'جو' کی بھی ضرورت ہے، اس کے بغیر ساری باتیں گناہوں کے زمرے میں کیسے آ سکتی ہیں! گناہوں کی لذْت جو اک عارضی ہے مگر روح ان سے ہی مغموم ہو گی ------------ روح کا مغموم ہونا بھی عجیب ہے،...
Top