نتائج تلاش

  1. الف عین

    مجھے تم نہ سمجھو غریب الوطن ہوں----برائے اصلاح

    مجھے تم نہ سمجھو غریب الوطن ہوں جہاں بیٹھ جاؤں وہیں پر چمن ہوں --------- ٹھیک، اگرچہ متکلم کا چمن ہونا سمجھ میں نہیں آتا جب کہ غریب الوطن بھی ہے وہ! مجھے دوسروں کی ضرورت نہیں ہے میں ہستی میں اپنی ہی رہتا مگن ہوں ------- بستی میں مگن رہنا محاورہ تو نہیں، مگن کسی فعل میں رہا جاتا ہے، یا حالت...
  2. الف عین

    برائے اصلاح

    غلامی ہی کیوں؟ میرے خیال میں اس کے بدلے دوسرا کوئی لفظ استعمال کیا جائے تاکہ اس بھرتی کے 'یہ' سے بھی نجات مل جائے .... کے آداب سے معمور قفس ہے اب تو پہلا مصرع دوسری ہی بحر میں ہو گیا! میرے خیال میں 'بنا' کی جگہ مٹی ہی استعمال کریں جو محاورہ بھی درست ہو جائے، جیسے گوندھا ہوا جب عشق ہی مٹی میں...
  3. الف عین

    غزل برائے اصلاح: جانے میں اعتماد کے کس مرحلے میں تھا

    نہیں، تصویر والی غزل کے قوافی بالکل درست ہیں، مشترک حرف صرف آ ہے، جس سے پہلے حرف کی حرکت کا سوال ہی نہیں اٹھتا! لیکن تمہاری غزل میں مشترک لے ہو، جس سے ما قبل حرف قافلے میں ف مکسور ہے، اور زلزلے میں زَ مفتوح۔ زبردستی کرنی یو تو اس کی اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے؟ میں کون ہوتا ہوں اجازت دینے والا؟...
  4. الف عین

    برائے اصلاح

    کس آس پہ کہیے کہ ہاں اچھا یہ برس ہے جب لذتِ گریہ نہ کہیں لطفِ جرس ہے ... ایطا ہو گیا ہے قافیے میں، برس، جرس کے ساتھ 'رس' پر ختم ہونے والے قوافی کا نظم ہونا چاہیے تھا اسلاف کی میراث سے بیزار ہے امت آدابِ غلامی سے یا معمور قفس ہے ... دوسرے مصرعے میں 'یا' بھرتی کا لگ رہا ہے گوندھا ہوا بس عشق جو...
  5. الف عین

    مبارکباد لاریب اخلاص بہنا کو منصب پانچ ہزاری مبارک

    بہت مبارک ہو بیٹا، یہ ہوا نا اک دم اصلی والا سنگ میل!
  6. الف عین

    برائے اصلاح و رہنمائی

    دل مرا کو بکو جب بکھر جائے گا تو ذرا سوچ آخر کدھر جائے گا ... ایطا در آیا نا قافیے میں! مفہوم بھی کوئی خاص نہیں، بدل دو ہم نے تو ویسے ہی دیکھا تھا اک نظر کیا خبر تھی کہ دل میں اتر جائے گا ... پہلا مصرع قطعی رواں نہیں. تو طویل، ویسے، دیکھا کے آخری حروف کا اسقاط روانی مخدوش کرتا ہے ہم نے ویسے ہی...
  7. الف عین

    درد پیہم ہے کوئی ساعتِ راحت ہی نہیں

    واقعی اس طرف میرا دھیان نہیں گیا تھا عطف کی صورت میں درست تلفظ سمجھنے کے لئے کچھ زیادہ ہی غور کرنا پڑتا ہے جو میں نے نہیں کیا! ویسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ ویسے اگر سقم دور کرنا چاہو تو محض 'صرف' سے کام چل سکتا ہے یعنی صرف غرض پر قائم
  8. الف عین

    محبّت نہ دنیا سے معدوم ہو گی------برائے اصلاح

    برائی کے زمرے میں آئیں..... تمنائی کے صیغے میں ہونے سے درست ہے جیسا میں نے مشورہ دیا تھا، یعنی یائے لین کے ساتھ، ماضی کے صیغے میں نہیں جو 'آئی' کی جمع کے طور پر ہو۔ باقی اشعار میں راحل سے متفق ہوں
  9. الف عین

    غزل برائے اصلاح: جانے میں اعتماد کے کس مرحلے میں تھا

    قافیے کی غلطی پر تو اب بھی غور نہیں کیا گیا۔ بہر حال جانے میں اعتماد کے کس مرحلے میں تھا میں دشمنوں کے بیچ بہت حوصلے میں تھا .... درست میرا مکاں تو گِر گیا، تیرا بچا رہا حالانکہ تیرا گھر بھی اُسی زلزلے میں تھا .... بعد میں یہ خیال آیا کہ زلزلے میں نہیں، زلزلے کے اثر میں کوئی گھر ہو سکتا ہے،...
  10. الف عین

    غزل برائے اصلاح - قدم

    مطلع بھی درست ہے اور زائل والا شعر بھی، لیکن میرا مشورہ مانو تو اسے مقطع بنا دو، مثلاً بھاگتی دنیا کے پیچھے بھاگتے تھے کیوں زبیر
  11. الف عین

    محبّت نہ دنیا سے معدوم ہو گی------برائے اصلاح

    محبّت نہ دنیا سے معدوم ہو گی ملے گی تبھی گر یہ مقسوم ہو گی -------- درست محبّت ہے آزاد رہنے کی طاقت کسی کی کبھی یہ نہ محکوم ہو گی -------یا جو کرنا بھی چاہو نہ محکوم ہو گی ---------- پہلا متبادل ہی بہتر ہے بنے گی جہاں میں وہ نفرت کا باعث کسی کی بھی حرکت جو مزموم ہو گی ------ حرکع، درست تلفظ...
  12. الف عین

    غزل برائے اصلاح: جانے میں اعتماد کے کس مرحلے میں تھا

    بہتر یوں ہو کہ اصلاح سخن کا پورا سیکشن ہی پڑھ ڈالیں، امید ہے کہ کئی باتیں بار بار کہی گئی ہیں، میری اور دوسرے احباب کی طرف سے بھی۔ بار بار پرھنے پر شاید ذہن میں اتر جائیں۔ میں تو سنجیدگی سے سوچ رہا ہوں کہ اصلاح سخن میں میرے مشوروں کو کم از کم کاپی پیسٹ کر کے کتاب ترتیب دے لوں مگر یہ ممکن نہ ہو...
  13. الف عین

    برائے اصلاح

    شاید 'ہے تو اور' کو فعلن سے تقطیع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یعنہ ہِ تُ اُر، یہ غیر ضروری اسقاط کے ذیل میں آئے گا 'اور' کو ہمیشہ مکمل باندھنے کی کوشش کریں اور اسی طرح ضمیر والا تُو بھی مکمل ہو۔
  14. الف عین

    غزل برائے اصلاح - قدم

    باقی اشعار درست ہو گئے ہیں کم سے کم اتنا تو ہو اہل وفا میں ہو شمار ۔۔۔۔۔۔۔۔(مجھے شمار کا ر گرتا ہوا لگ رہا ہے) کم سے کم دشت محبت میں تو ہو داخل قدم ... یہ بھی درست ہے، شمار کے ر کی اجازت ہے، فاعلن کو آخری رکن کے طور پر فاعلان/فاعلات کیا جا سکتا ہے بھاگتی دنیا کے پیچھے بھاگنا ہو کیوں مجھے اس...
  15. الف عین

    اساتذہ کرام اور احباب سے اصلاح کی درخواست ہے(شکیل احمد خان)

    اس شعر کا تو اضافہ ہے 'حیراں ہوں دل....' جو دو لخت ہے، بار قافیے کی معنویت واضح نہیں، اس کی ضرورت نہیں میرے خیال میں ۔ ساحل اور بھنور والا شعر اب بھی پسند نہیں آیا، یلغار قافیہ بھی معنی خیز نہیں لگتا، اس کو بھی نکال دو، باقی اشعار درست ہو گئے ہیں
  16. الف عین

    غزل برائے اصلاح: جانے میں اعتماد کے کس مرحلے میں تھا

    اس غزل کے قوافی میں مسئلہ ہے۔ 'لے' سے پہلے کے حروف کہیں مفتوح ہیں اور کہیں مکسور، مرحلے، مسئَلےزلزَلے میں زبر ہے سلسلے، قافلے وغیرہ میں زیر/کسرہ ہے اگر اس سے صرف نظر کیا جائے تب بھی جانے میں اعتماد کے کس مرحلے میں تھا میں دشمنوں کے درمیاں بھی حوصلے میں تھا ... درمیاں کا 'اں' کا اسقاط اچھا نہیں،...
  17. الف عین

    غزل---دل ہےتو دھر مرے کلام پہ کان

    قدر، دال ساکن، بمعنی مقدار کی مثال دیں۔ اگر ' اس قدَر'، دال مفتوح، کو دال ساکن بولا جاتا یو تو تمہاری بات مانتا ہوں، ورنہ میں نے تو کبھی دال ساکن نہیں سنا اس یا کس کے ساتھ!
  18. الف عین

    برائے اصلاح

    ان دونوں اشعار مفہوم کے لحاظ سے بھی بہت اہم نہیں، انہیں قبول کیا بھی گیا تو خواہ مخواہ کا اضافہ ہی محسوس ہو گا۔ پہلے شعر میں 'لگنے' کی ے کا اسقاط غلط ہے دوسرے، 'بھنا' بھوننے کے عمل کی objective صورت ہے، دل بھن گیا، بھن کر کباب یو گیا.. یہ تو درست ہے، لیکن غم نے 'بھونا' تب دل بھن کر کباب ہو سکتا ہے
  19. الف عین

    اساتذہ کرام اور احباب سے اصلاح کی درخواست ہے(شکیل احمد خان)

    عزیزم متعدد تبدیلیوں کی تو آپ نے قطار لگا دی۔ زیادہ تر متبادل پسند آئے، جون سے رکھے جائیں، یہ تم پر ہی چھوڑنا بہتر ہے۔ قوانین تو بہت زیادہ نہیں غزل کے، بس زبردستی کی آزادی لینے کی کوشش نہ کی جائے تو بہتر ہے کہ کچھ اس قسم کے تجربے محض تجربے کے طور پر ہی قبول کیے جا سکتے ہیں۔ جو اصول ہیں وہ زیادہ...
Top