صاحب ہم بھی ایک اسی طرح کے سانچے پر کا م کررہے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ یہ ایچ ٹی ایم ایل کی بنیاد پر ہے، جس میں یونی کوڈ اردو کا جسٹیفائی پر راضی کرنا ہے ، جو کہ ایک نظر نہ آنے والی ٹیبل میں ہوگا انشا اللہ ،۔ میرے حق میں بھی دعا کیجے گا، میں آپ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہوں ۔والسلام
بہت شکریہ جناب ، غزل پیش کرنے کو ، عام سی روایتی غزل ہے ، پیش کش کے لیے شکریہ قبول کیجیے ۔
ایک شعر سنیں:
جتنی مشکل ہے مجھے اتنی ہی آسانی ہے
میرا سامان مری بے سرو سامانی ہے
(خورشید عالم، شاعر و صحافی ایکسپریس )
ہاں صاحب ہم بھی اسی مخمصے میں ہیں ۔۔ اب دیکھیے نا۔۔ہمیں کیسے خبر ہوگی کون کون بھوت کہاںبیٹھا ہے۔۔ :rollingonthefloor:
(عبد اللہ کی درخواست پر تصویر ہٹا دی ہے)
گیت
وادی ِتھر سن گیت پُرانا ریت پہ ننگے پاؤں
پھر میری سنگت میں گانا ریت پہ ننگے پاؤں
ریت پہ ننگے پاؤں سر پر دھوپ کی اِک اجرک
قافلہ ہے کس سمت روانہ ریت پہ ننگے پاؤں
سر پر مٹکہ گود میں بچّہ لب پر پیاس سجی
ڈھونڈے ماسی آب و دانہ ریت پہ ننگے پاؤں
الغوزہ ، بینجو، ڈھولک، اکتارا ساتھ لیے...
غزل
ساحلی ریت پہ آنکھوں میں پڑی گیلی چمک
پھر ہوا نے بھی دکھاڈالی ہمیں اپنی چمک
ایک ہی ناؤ کنارے سے کنارے کا سفر
گھر پلٹ آئے کماتے ہوئے دن بھر کی چمک
چاندنی پھیلی دریچوں سے دھواں اُٹھنے لگا
آسماں پر جو ہویدا ہوئی تاروں سی چمک
صبح سے ٹھنڈے پڑے چولھے میں پھر آگ جلی
بھوکے بچوں کی...
بھائی معصوم آدمی ہو ، کیوں اپنی ’’ جند ‘‘ خراب کرنے کے موڈ میںہو، :grin:
اللہ اللہ کرو ، اور شکر ادا کرو ، کہ بیوی کی متو قع مار سے محفوظ ہو۔۔ ہمارے حال سے ہی سبق سیکھ لو۔۔:notlistening: