آواز:مہدی حسن
کلام: میر تقی میر
دیکھ تو دل کہ جاں سے اُٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
گور کس دل جلے کی ہے یہ فلک
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے
خانۂ دل سے زینہار نہ جا
کوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے!
نالہ سر کھینچتا ہے جب میرا
شور اک آسماں سے اُٹھتا ہے
لڑتی ہے اُس کی چشمِ شوخ جہاں
ایک آشوب...