جو واقعہ بڑھا چڑھا کے لکھا جائے وہ تو یقیناً ہر خاص و عام جان لیتے ہیں کہ لکھنے والے صاحب کی کارستانی ہے۔ لیکن حقیقی واقعات جیسا کہ ساگر بھائی نے جو واقعہ بیان کیا اس کا کیسے علم ہو گا کہ حقیقی ہے۔ کیونکہ ساگر بھائی کے بتانے سے پہلے تک اسے مجھ سمیت اور دوستوں نے بھی محض ایک بنایا ہوا واقعہ سمجھا۔