ہر ایک گام پہ صدیاں نثار کرتے ہوئے
میں چل رہا تھا زمانے شمار کرتے ہوئے
یہی کھلا کہ مسافر نے خود کو پار کیا
تری تلاش کے صحرا کو پار کرتے ہوئے
میں رشک ریشۂ گل تھا بدل کے سنگ ہوا
بدن کو تیرے بدن کا حصار کرتے ہوئے
مجھے ضرور کنارے پکارتے ہوں گے
مگر میں سن نہیں پایا پکار کرتے ہوئے
میں اضطراب زمانہ...