بند باہر سے مری ذات کا در ہے مجھ میں
میں نہیں خود میں یہ اک عام خبر ہے مجھ میں
اک عجب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال
جونؔ برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں
ہے مری عمر جو حیران تماشائی ہے
اور اک لمحہ ہے جو زیر و زبر ہے مجھ میں
کیا ترستا ہوں کہ باہر کے کسی کام آئے
وہ اک انبوہ کہ بس خاک بسر ہے...