1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $413.00
    اعلان ختم کریں

جون ایلیا بند باہر سے مری ذات کا در ہے مجھ میں

محمد عدنان اکبری نقیبی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 28, 2019

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    محمد عدنان اکبری نقیبی محفلین

    مراسلے:
    17,167
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    بند باہر سے مری ذات کا در ہے مجھ میں
    میں نہیں خود میں یہ اک عام خبر ہے مجھ میں

    اک عجب آمد و شد ہے کہ نہ ماضی ہے نہ حال
    جونؔ برپا کئی نسلوں کا سفر ہے مجھ میں

    ہے مری عمر جو حیران تماشائی ہے
    اور اک لمحہ ہے جو زیر و زبر ہے مجھ میں

    کیا ترستا ہوں کہ باہر کے کسی کام آئے
    وہ اک انبوہ کہ بس خاک بسر ہے مجھ میں

    ڈوبنے والوں کے دریا مجھے پایاب ملے
    اس میں اب ڈوب رہا ہوں جو بھنور ہے مجھ میں

    در و دیوار تو باہر کے ہیں ڈھانے والے
    چاہے رہتا نہیں میں پر مرا گھر ہے مجھ میں

    میں جو پیکار میں اندر کی ہوں بے تیغ و زرہ
    آخرش کون ہے جو سینہ سپر ہے مجھ میں

    معرکہ گرم ہے بے طور سا کوئی ہر دم
    نہ کوئی تیغ سلامت نہ سپر ہے مجھ میں

    زخم ہا زخم ہوں اور کوئی نہیں خوں کا نشاں
    کون ہے وہ جو مرے خون میں تر ہے مجھ میں

    جون ایلیا

     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. سفیر آفریدی

    سفیر آفریدی محفلین

    مراسلے:
    403
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    کون ہے وہ جو میرے خون میں تر ہے مجهہ میں
     
  3. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,678
    واہ۔ عمدہ غزل۔
     
  4. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,196
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    کون ہے وہ جو مرے خون میں تر ہے مجھ میں
     

اس صفحے کی تشہیر