ٹھیک ہے صاحب ، یہ تو ’’ معجزہ‘‘ ہوگیا کہ رات کو بندریا کسی معاملے میں نہیں تھی ،اور صبح بچے کی ولادت بھی ہوگئی ، اس پر ستم کہ پنجرہ میں بند ہوتی ہے ، اور چابی ’’ مالک ‘‘ کے پاس ، واہ واہ واہ ۔۔
ارے بھئی ہم آپ کے ثبوت پر یقین کرچکے ہیں اور ’’ فتویٰ ‘‘ کس نے صادر کیا تھا جو آپ ناراض ہیں ، خیر...
لیکن اس امارت کا ہم غریبوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ ہاہاہ
ویسے بھی محفل میں تاریخ ِ اندراج بتاتے ہیں کہ آپ مجھ برسوں پہلے کے ہیں ، مگر ہم پھر بھی ۔۔۔ فیصد کے حساب سے آپ سب سے آگے ہیں ہ ۔۔ ہاہہاہااہا
جی ہاں صاحب ، یقینا ً آپ اصل بات تک پہنچ گئے ہوں گے ۔ محفل میں بہنوں بیٹیوں کے تقدس میں ’’ واضح ‘‘ نہیں لکھا اور علامتی طور پر ’’ کراس پولی نیشن‘‘ لکھا ہے ۔ سچ کا اظہار اتنا معنیٰ نہیں رکھتا جتنا طرزِ بیان ۔۔۔ شکریہ آپ کی حیرت کے لیے۔:battingeyelashes:
ہاہاہ ۔۔ میں نے ڈالمیا فون کیا ، ابھی تک انہوں نے تصدیق نہیں، ابھی بلیلہ نکالتا ہوں ، وہیں سے گزر ہوتا ہے ۔، دیکھ لوں گو پھر آپ کو (زین) ایس ایم ایس کردوں گا۔ تصدیق کے لیے ۔
ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ :
’’ آدمی کے جھوٹا ہونے کو یہ بات کافی ہے کہ وہ بغیر تصدیق کے بات کوآگے بڑھادے ‘‘
اب صحافت اور سیاہ ست میں تفریق میں آسانی ہوگئی ہوگی۔شکریہ
سچ کہا صاحب ، در اصل ہم چھوٹے ذاتی فائدے پر بڑے اور اجتماعی فائدے کو قربان کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم میں بے حسی آخری حدوں کو چھونے لگی ہے۔۔ خوش رہیں جناب
کیا بات ہے شاعری شروع کردی کیا ؟
مولوی اختر حسین کی ایک قوالی یاد آگئی ۔
نی اوہ تیرا کی لگدا جیہڑا لکیا نظر نئیں آوندا
نی اوہ تیرا کی لگدا جیہدی لے کے جاندی چوری
نی اوہ تیرا کی لگدا جیہڑا بنیا تری مجبوری