انسان کے دکھوں کا مداوا کہیں نہیں
دنیا تو ہے مگر مری دنیا کہیں نہیں
ہوتے ہیں جس کے تذکرے ہوتا کہیں نہیں
ہو آدمی نہ آدمی ایسا کہیں نہیں
ہر جا تماش بین ہیں بینا کہیں نہیں
اندھوں نے طے کیا ہے تماشا کہیں نہیں
اچھوں کو یہ خیال کہ ہم سا کہیں نہیں
اندیشہ یہ بروں کو کہ اچھا کہیں نہیں
انسان کا کمال...