عشق کے جو اصول ہوتے ہیں
کرنے والوں کی بھول ہوتے ہیں
قرض مت دیجیے حسینوں کو
ہوتے ہوتے وصول ہوتے ہیں
جنھیں ہوتا ہے علم کا دعویٰ
وہ ظلوم و جہول ہوتے ہیں
کام کی چیز آدمیت ہے
آدمی سب فضول ہوتے ہیں
کیا خزاں کیا بہار کانٹوں کی
پھول کچھ بھی ہو پھول ہوتے ہیں
نہ ٹھہرنا نہ دیکھنا مڑ کر
لوگ گلیوں کی...