مکاں سے لا مکاں تک آ گئے ہیں
کہاں سے ہم کہاں تک آ گئے ہیں
جہاں جلتے ہیں پر ہوش و خرد کے
جنوں میں ہم وہاں تک آ گئے ہیں
بھڑک اٹھی ہے کیسی آتش گل
شرارے آشیاں تک آ گئے ہیں
خلوص دوستی پر مرنے والے
حیات جاوداں تک آ گئے ہیں
ہماری گم رہی منزل نشاں ہے
تجسس میں کہاں تک آ گئے ہیں
وہاں دل میں...