کاش کسی دن ایسا ہو
راہوں میں اک دوجے سے
راہوں، جمع کیوں؟ رستے کا محل ہے
ہم تم اچانک مل جائیں
.. اچانک وزن میں نہیں آتا
یکدم آ سکتا ہے
اور ہمارے ساتھ اس وقت
دوست ، سہیلی کوئی نہ ہو
بھول کے اس دَم سب کچھ ہم
حال سے فوراً ماضی میں
پل بھر میں گم ہو جائیں
اور ہماری آنکھیں پھر
جوشِ اشک سے بھر جائیں...