ماشا اللہ دوست ، بہت خوب ،یہ پہلا پڑاؤ ہے انشا اللہ اسی طرح لکھتے رہیں ، آگے جائیں گے۔،
باباجانی ( الف عین ) وارث صاحب کی باتیں غور سے پڑھیے اور مشق جاری رکھیں ۔ جیتے رہیں
بابا جانی ، ہر ذی روح کو ہر ایک کی بجائے ، اگر ’’ ہر روح ‘‘ کردیا جائے تو کیا خیال ہے ؟
شکریہ جیہ، آپ بھی اپنی جگہ ٹھیک ہیں کہ بہت سے لوگوں کی شناخت اسی طرح سے ہے ، استادقمر جلالوی اس میں ملکہ رکھتے تھے، مگر جو غلط ہے سو غلط ہے ( نکاتِ سخن کے تحت)
احباب کے تبصرے خرمن میں شامل کردیے گئے ہیں ، مگر ابھی تک مجھے جریدہ موصو ل نہیں ہوا کہ تحسین خاصے عرصے سے علیل ہیں، بہر کیف وصولی پر ترسیل کردی جائے گی ، انشا اللہ
طاہر صاحب دوبارہ نہیں آئے ، میرے غیاب میں فاتح صاحب آتے رہے ، یعنی ایک وقت میں ایک ’’ محمود ‘‘ کی متحمل ہے یہ بزم ۔( پھر تو ہم لمبی چھٹیوں پر جاتے ہیں)
اچھی کوشش ہے حیدر بھیا، واہ۔۔ خوب خوب مشق کیجے۔
متفق
بری بات راجہ جی، اس طرح نہیں کہتے ، کسی کے اظہار پر یوں قدغن لگانا ٹھیک نہیں، ہم سب ایسے ہی تھے
متفق
پیارے بھائی سلیمان جاذب میں منتظر ہوں شدت سے
کوئی خاص وجہ نہیں ہر دور میں ایسے عمل کو تنقید کا حدف بنایا گیا اور مقالات ومراسلہ جات تحریر ہوئے ، ’’ چہ دلاور است‘‘ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ، جب غالب اور حافظِ شیراز کو نہیںچھوڑا گیا تو موصوف کس کھیت کی مولی ہیں۔:grin: