وہی جدت طرازیاں، وہی نت نئی ردیفیں، اللہ سلامت رکھے آپ کو اور آپ کے ذہنِ رسا کو کہ ہم نے شمع آپ کے سامنے سے ہٹنے نہیں دینی!
فوراُ سے یشتر نئی غزلیں، دو غزلہ اور سہہ غزلہ کہہ کر تیار رکھیے کہ وہ نوبت ہی نہ آنے پائے اور پرانا اسٹاک ختم ہونے سے پیشتر نئی غزلوں کا مجموعہ تیار ہو۔
غزل
پیر زادہ قاسِم رضا صدیقی
درد ہے کہ نغمہ ہے فیصلہ کیا جائے
یعنی دل کی دھڑکن پر غور کر لیا جائے
آپ کتنے سادہ ہیں چاہتے ہیں بس اتنا
ظُلم کے اندھیرے کو رات کہہ لیا جائے
آج سب ہیں بے قیمت گریہ بھی تبسّم بھی
دل میں ہنس لیا جائے دل میں رو لیا جائے
بے حسی کی دنیا سے دو سوال میرے بھی
کب تلک جیا...
گرچہ تصحیح کے لیے غزل پیش کرتے ہوئے چنداں ضروری نہیں کہ آپ رائے شماری کے بھی خواہش مند ہوں، پھر بھی اگر آپ چاہتے ہیں تو جس طور رائے شماری کو ہونا چاہیے، ہم نے مشتے از خروارے تدوین کردی ہے۔،
ظہیر بھائی توجہ فرمائیے، آپ کے محنت سے تیار کردہ اسباق امیج ہوسٹنگ ویب سائیٹ کی ناقدری کے باعث نظروں سے غائب ہیں۔
لٖاہوری نستعلیق : قواعد اور اصول
امید ہے کسی دوسری سائیٹ پر ڈال سکیں گے۔ ویسے آپ کی اپ لوڈ کردہ کتاب کا لنک موجود ہے ۔
ابنِ صفی نے کہیں ایک کاتب صاحب کے بارے میں لکھا تھا جو پِکاسُو پر ایک مضمون کی کتابت کررہے تھے۔ انہوں نے جانا کہ مضمون نگار سے 'ر' سہواً' لکھنے سے رہ گئی ہے، لہٰذا جہاں جہاں پِکاسُو کا نام نظر آیا وہ ایک عدد 'ر' کا اضافہ کرتے چلے گئے۔