بھائی ممدو کا املا
از شان الحق حقی
کچا ہے بھائی ممدو کا اِملا بہت ابھی
مِسطر کی طرح طوئے سے لکھتے ہیں مشتری
ظاہر ہے ایک شوشے سے بنتا ہے سر کا سین
اس میں بھی وہ بناتے ہیں دندانے تین تین
جس لفظ کو انھوں نے جو چاہا بنا دیا
بھینسا کو چھوٹی ہ سے بہینسا بنا دیا
اپنی نظر میں سارے مسلمان بھائی ہیں...