غزل
(بہزاد لکھنوی)
کیا یہ بھی میں بتلا دوں ، تُو کون ہے ، میں کیا ہوں
تو جانِ تماشا ہے، میں محوِ تماشا ہوں
تو باعثِ ہستی ہے، میں حاصلِ ہستی ہوں
تو خالقِ اُلفت ہے اور میں ترا بندہ ہوں
جب تک نہ ملا تھا تو اے فتنہء دوعالم
جب درد سے غافل تھا، اب درد کی دُنیا ہوں
کچھ فرق نہیں تجھ میں اور مجھ میں...
غزل
(فاضل کاشمیری)
دونوں عالم سے نِرالی عشق کی سرکار ہے
ہوش سے جو بےخبر ہے، وہ یہاں ہُشیارہے
رو رہے ہیں خُون کے آنسو مرے زخم جگر
دل مرے پہلو میں ہے یا دیدہء خُونبار ہے
آنکھ ملناتھاکہ رُخصت ہوگئےصبروقرار
کیا اِسے دیدار کہتےہیں، یہی دیدارہے
ہجر کی راتیں مری ہوجائیں گھڑیاں وصل کی
یہ تمہیں آسان...
غزل
(فاضل کاشمیری)
میں سمجھا تھا محبت پھر محبت ہے مزا دے گی
یہ کیا معلوم تھا ظالم شبِ فُرقَت رُلا دے گی
وہ گھڑیاں گِن رہا ہے موت کی اے واے ناکامی
جو کہتا تھا محبت زندگی میری بنا دے گی
غلط ہے یہ وہ آئیں گے، نہ آئے ہیں، نہ آئیں گے
بتا اے شامِ غَم کب مجھ کو پیغامِ قضا دے گی
مجھے بَس دیکھ لو...
غزل
(بہزاد لکھنوی)
حُسن کی جنّتیں ارے توبہ
عشق کی حیرتیں ارے توبہ
ٹیس اٹھتی ہے مسکراتا ہوں
درد کی لذتیں ارے توبہ
ہائے اس زندگی میں اس دل پر
روز کی آفتیں ارے توبہ
دل پرسانِ حال کوئی نہیں
اس پہ یہ حسرتیں ارے توبہ
عشق کے ساتھ بندگی بھی کروں
اس قدر فرصتیں ارے توبہ
لُٹ رہی ہیں بصورت جلوہ
حسن کی...
غزل
(بہزاد لکھنوی)
میں ان کی نظروں میں سمایا ہوا ہوں
فضائے محبت پہ چھایا ہوا ہوں
میں محفل میں اُن کی جو آیا ہوا ہوں
بلایا ہوا ہوں، بلایا ہوا ہوں
لبوں پہ مرے کیوں نہ ہو مسکراہٹ
نظر کا تری گدگدایا ہوا ہوں
میں روکے کسی کے بھلا رک سکوں گا
تصوّر کی رَو کا بہایا ہوا ہوں
قسم یاد کی اور قسم بھولنے...
غزل
(بہزاد لکھنوی)
عالمِ عشقِ حقیقی بھی جُدا ہوتا ہے
جس کو اللہ بنا لو، وہ خُدا ہوتا ہے
ہاں ترے نام پہ میرا تو تڑپنا ہے درست
پر مرے ذکر پہ ظالم تجھے کیا ہوتا ہے
درد کو کیوں نہ کہوں باعثِ تسکیں ہےیہی
درد کو درد سمجھنے سے بھی کیا ہوتا ہے
یہ تصور کا کام ہے کہ عنایت تیری!
تو ہراک گام پہ کیوں...
غزل
(بہزاد لکھنوی)
دُنیا سے مجھے مطلب ؟اس کی نہیں پروا ہے
دُنیا تو مری تم ہو، تم سے مری دنیا ہے
بیکار ہے ہر حسرت ، بےسود تمنّا ہے
آغاز میں ہنسنا ہے، انجام میں رونا ہے
کیا یہ بھی بتلادوں، تو کون ہے، تو کیا ہے
ہاں دیں ہے توہی میرا ، توہی مری دنیا ہے
اللہ رے رعنائی اس جلوہء کامل کی
دل محوِ...
غزل
(بہزاد لکھنوی)
اک بے وفا کو پیار کیا، ہائے کیا کیا
خود دل کو بیقرار کیا، ہائے کیا کیا
معلوم تھا کہ عہدِ وفا ان کا جھوٹ ہے
اس پر بھی اعتبار کیا، ہائے کیا کیا
وہ دل کہ جس پہ قیمتِ کونین تھی نثار
نذرِ نگاہِ یار کیا، ہائے کیا کیا
خود ہم نے فاش فاش کیا رازِ عاشقی
دامن کو تار تار کیا، ہائے کیا...