بشر کا ناز، نبوت کا نورِ عین حسین
جنابِ فاطمہ زہرا کے دل کا چین حسین
کبھی نماز سے پوچھا جورنج و غم کا علاج
کہا نماز نے بے ساختہ حسین! حسین!
(محسن نقوی شہید)
مرضی ہے تیری، فکر میں ترمیم کر نہ کر
سلطانِ عقل و عشق کو تسلیم کر نہ کر
بچپن میں دیکھ لے ذرا دوشِ رسو ل پر
پھر تو مرے حسین کی تعظیم کر نہ کر
(محسن نقوی شہید)
افتخارِحسن علیہ السلام
(علامہ ذیشان حیدر جوادی کلیم الہ آبادی)
اہل دنیا خاک سمجھیں گے حسن کا افتخار
خاک کے پتلے ہیں یہ، وہ رحمتِ پروردگار
مالکِ جنّت کا رتبہ اور سمجھیں اہلِ نار
فرش کے ساکن بتائیں عرش والوں کا وقار
یاد رکھو مختصر یہ ہے حسن کا اقتدار
وقت کا قیصر بھی ہے اس در کا اک خدمت گزار...
نوحہ برائے وفات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
(علامہ ذیشان حیدر جوادی کلیم الہ آبادی)
روضہ پہ مصطفیٰ کے تھا فاطمہ کا نوحہ
بابا تمہاری بیٹی اب رہ گئی ہے تنہا
آتا نہیں ہے در پہ کوئی سلام کرنے
دشمن ہوا زمانہ بدلی ہوئی ہے دنیا
کیا جانے ہوگی حالت اب کیا تمہارے گھر کی
جب دو دنوں میں بدلا...
سلام و نوحہ
(علامہ ذیشان حیدر جوادی کلیم الہ آبادی)
دختر شاہ لافتیٰ زینب
اپنی منزل کی فاطمہ زینب
کوئی سمجھے گا تجھ کو کیا زینب
تجھ پر شبیر تھے فدا زینب
یہ تھا بس تیرا حوصلہ زینب
تجھ سے زندہ ہے کربلا زینب
وہ فقط تیرا ایک بھائی تھا
جس کا ثانی نہ ہوسکا زینب
دینِ اسلام کی بنا تھے حسین
دینِ...
مرثیہ شہادت امام حسین علیہ السلام
(علامہ ذیشان حیدر جوادی کلیم الہ آبادی)
مالک سلطنتِ صبرو شجاعت تھے حسین
عارفِ دبدبہء عزمِ شہادت تھے حسین
وارث عظمتِ سرکارِ رسالت تھے حسین
جانِ زہرا و علی، نازِ مشیت تھے حسین
حیف جس کا کوئی کونین میں ثانی نہ ملا
زیر شمشیرِ ستم اُس کو بھی پانی نہ ملا
یوں تو ہر...
عَلَمدارِ کربَلاَ (مسدس)
(علامہ ذیشان حیدر جوادی کلیم الہ آبادی)
روح کمال احمد مختار ہے وفا
حسن و جمال حیدر کرار ہے وفا
محبوب خاص ایزد غفار ہے وفا
انسانیت کی نسل کا معیار ہے وفا
کہتا ہوں صاف میثم تمار کی طرح
ہو باوفا تو شہ کے علمدار کی طرح
عباس ہر کمال سیادت سے ہے قریب
عباس ہر فریب سیاست کا ہے...
محسن اسلام و اولاد
(علامہ ذیشان حیدر جوادی کلیم الہ آبادی)
حیف اس کو بھی سمجھنے لگی دنیا کافر
جس کے رشتوں میں نہیں کوئی بھی رشتہ کافر
جس کو بھی چاہے بنا دیتا ہے مُلّا کافر
سچ ہے کافر کو نظر آتی ہے دنیا کافر
نسل وہ جس میں نہ ہو باپ نہ دادا کافر
غیر ممکن ہے کہ ہو اس کا خلاصہ کافر
اب تو کافر بھی...
کہا یہ کس نے کوئی حرف ناروا کہئے
مگر جو کوئی بُرا ہو تو پھر برا کہئے
جو ہو رسول پہ قربان اسے کہیں عاشق
جو بھاگے چھوڑ کے اس کو تو بےوفا کہئے
(علامہ ذیشان حیدر جوادی کلیم الہ آبادی)
خالق نے کچھ اس طرح اُتارے ہیں محمد
ہر دور میں ہر شخص کو پیارے ہیں محمد
اکثر درِ زہرا پہ یہ جبریل نے سوچا
پیغام کسے دوں کہ یہ سارے ہیں محمد
(محسن نقوی شہید)
باطل کی سازشوں کے کُچلتے رہیں گے ہم
جب تک رہے گا ہاتھ میں پرچم حسین کا
قصرِ یزیدیت کی دراڑو ں سے پوچھ لو
تاریخِ انقلاب ہے ماتم حسین کا
(علامہ ذیشان حیدر جوادی)
نہ پوچھ کیسے کوئی شاہِ مشرقین بنا
بشر کا ناز، نبوت کو نور عین بنا
علی کا خون، لعابِ رسول، شیر ِبتول
ملے ہیں جب یہ عناصر تو پھر حسین بنا
(محسن نقوی شہید)