غزل
(حفیظ جالندھری)
دو روز میں شباب کا عالم گزر گیا
"بدنام کرنے آیا تھا، بدنام کرگیا"
بیمارِ غم مسیح کو حیران کر گیا
اُٹھا، جُھکا، سلام کیا، گرکے مر گیا
گُزرے ہوئے زمانے کا اب تذکرہ ہی کیا
اچھا گزر گیا، بہت اچھا گزر گیا
دیکھو یہ دل لگی، کہ سرِ رہگزارِ حُسن
اک اک سے پوچھتا ہوں مرا دل کدھر گیا...
غزل
(حفیظ جالندھری)
رنگ بدلا یار کا، وہ پیار کی باتیں گئیں
وہ ملاقاتیں گئیں، وہ چاندنی راتیں گئیں
پی تو لیتا ہوں مگر پینے کی وہ باتیں گئیں
وہ جوانی، وہ سیہ مستی، وہ برساتیں گئیں
اللہ اللہ کہہ کے بس اک آہ کرنا رہ گیا
وہ نمازیں، وہ دعائیں، وہ مناجاتیں گئیں
حضرتِ دل ہر نئی اُلفت سمجھ کر سوچ کر...
غزل
(حفیظ جالندھری)
آہی گیا وہ مجھ کو لحد میں اُتارنے
غفلت ذرا نہ کی مرے غفلت شعار نے
اب تک اسیرِ دامِ فریبِ حیات ہوں
مجھ کو بھُلا دیا مرے پروردگار نے
او بےنصیب دن کے تصور سے خوش نہ ہو
چولا بدل لیا ہے شبِ انتظار نے
برسوں فریبِ عشق دیا اک حسین کو
اس دل نے، ہاں اسی دلِ ناکردہ کار نے
سب کیفیت...
غزل
(حفیظ جالندھری)
آنے لگا ہے اپنی حقیقت سے ڈر مجھے
کیوں دیکھتے ہیں غور سے اہلِ نظر مجھے
ہے خوابِ مرگ زندگیِ تازہ کی دلیل
یہ شام دے رہی ہے نویدِ سحر مجھے
بدلی ہوئی نگاہ کو پہچانتا ہوں میں
دینے لگے پھر آپ فریبِ نظر مجھے
لے جاؤ ساتھ ہوش کو، اے اہلِ ہوش جاؤ
ہے خوب اپنی بےخبری کی خبر مجھے
لو وہ...
تاریخ تیرے بخل پہ روئے گی عمر بھر!
ہر اشک ایک طنز ہے تیرے مزاج پر
چھ ماہ کا لال، اور ابھی تک ہے تشنہ لَب؟
اے موجہء فرات، کہیں جا کر ڈوب مر!!
(محسن نقوی شہید)
شجاعت کا صدف، مینارہء الماس کہتے ہیں
غریبوں کا سہارا، بے کسوں کی آس کہتے ہیں
یزیدی سازش جس کے عَلم کی چھاؤں سے لرزیں
اُسے اَرض و سما والے سخی عباس کہتے ہیں
(محسن نقوی شہید)
ہو خُم پر جس کا اعلانِ اَمیرالمومنیں ہونا
اُسے جچتا ہے سلطانِ فلک، فخرِ زمیں ہونا
بشرتو کیا فرشتے دل ہی دل میں کہہ اُٹھے محسن
علی کو زیب دیتا ہے نبی کا جانشیں ہونا
(محسن نقوی شہید)
صاحبِ فکر و نظر، حق کا وَلی کہتے ہیں
کاشفِ کنزو حبیبِ اَزَلی کہتے ہیں
جس کو ڈوبا ہوا سورج بھی پَلٹ کر دیکھے
ہم اُسے اپنے عقیدے میں علی کہتے ہیں
(محسن نقوی شہید)
عہدِ خزاں سرشت کی غارت گری نہ پوچھ
خوشبو کو خود تلاش حُدودِ چمن کی ہے
اس دورِ فتنہ پرور عصرِ فساد میں!
دُنیا کو بہرِ امن ضرورت حسن کی ہے
(محسن نقوی شہید)
چھَٹے گی کِذب کی گردِ کہن آہستہ آہستہ!
مٹے گی فکرِ انساں کی تھکن آہستہ آہستہ
ابھی تاریخ کو بچپن کی سرحد سے گزرنے دو
کھُلیں گے اس پہ اوصافِ حسن آہستہ آہستہ
(محسن نقوی شہید)
سلام
(محسن نقوی شہید)
کیا خاک وہ ڈریں گے لحد کے حساب سے؟
منسوب ہیں جو خاکِ رَہ بوتراب سے
مشکل کشا ہیں پاس، فرشتو ادب کرو
مشکل میں ڈال دوں گا سوال و جواب سے
خیبر میں دیکھنا یہ ہے جبریل یا اَجل
لپٹا ہوا ہے کون علی کی رکاب سے
پہلے یہ ضد تھی خواب میں دیکھیں گے خُلد کو
اب ضد یہ ہے کہ خلد میں جاگیں...
سلام
(محسن نقوی شہید)
بصَد رکُوع و سجود و قیام کہنا ہے
حسین ابنِ علی پر سلام کہنا ہے
زباں کو چاہیے کچھ اعتمادِ خاکِ شفا
ہمیں جبیں کو معلّیٰ مقام کہنا ہے
غمِ حسین میں اک اشک کی ضرورت ہے
پھر اپنی آنکھ کو، کوثر کا جام کہنا ہے
یہ نام کیوں نہ کروں زندگی میں وردِ زباں؟
مجھے لحد میں علی کو امام کہنا...
غم حسین کے آنسو ہیں اپنی آنکھوں میں
سجا کے جسم پہ ماتم کے داغ لائے ہیں
سنا تھا قبر کے اندر بڑا اندھیرا ہے
ہم اپنے ساتھ ہزاروں چراغ لائے ہیں
(محسن نقوی شہید)
اگر کسی دل میں بغض حیدر کی دھول ہوگی جنابِ والا
تو پھر عقیدے کی ہر ادا بے اصول ہوگی جناب والا
اگر کسی سے بروزِ محشر خفا خفا ہو نبی کی بیٹی
تو پھر بہشت بریں کی خواہش فضول ہوگی جنابِ والا
(محسن نقوی شہید)